وفاقی اپیلز کورٹ نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو وسطی امریکہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 60 ہزار سے زائد تارکین وطن کے لیے عارضی تحفظات ختم کرنے اور ورک پرمٹ منسوخ کرنے کی اجازت دے دی۔

یو ایس کورٹ آف اپیلز فار نائنتھ سرکٹ کے فیصلے کے تحت حکومت نکاراگوا، ہونڈوراس اور نیپال کے تارکین وطن کے لیے ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس (ٹی پی ایس) ختم کر سکے گی، جب تک کہ اس پالیسی کو چیلنج کرنے والا مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ تین ججوں نے اس فیصلے پر دستخط کیے تاہم قانونی جواز فراہم نہیں کیا۔

اس فیصلے کے تحت نیپالی تارکین وطن کے تحفظات فوراً ختم ہو گئے جو 5 اگست کو ختم ہو چکے تھے۔ ہونڈوراس اور نکاراگوا کے شہریوں کے لیے یہ سہولت 8 ستمبر کو ختم ہو جائے گی۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشا میکلاکلن نے کہا کہ یہ فیصلہ امیگریشن نظام میں شفافیت بحال کرے گا اور ٹی پی ایس کو ’’ڈی فیکٹو پناہ گزینی نظام‘‘ کے طور پر استعمال ہونے سے روکے گا۔

دوسری جانب یو سی ایل اے سینٹر فار امیگریشن لاء اینڈ پالیسی کے ماہر اہلان ارولاننتھم نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کوئی وجہ بیان نہیں کی اور یہ محض حکومت کے ’اختیارات پر قبضے‘ کی توثیق ہے۔ یاد رہے کہ جولائی میں ڈسٹرکٹ جج ٹرینا تھامپسن نے حکومت کے اس اقدام کو عارضی طور پر روک دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے نسلی تعصب کا امکان ہے۔