چین اور بھارت نے طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد تعلقات میں بہتری کے اشارے دیتے ہوئے براہِ راست پروازوں کی بحالی، تجارتی رکاوٹوں میں نرمی اور سرحدی تجارت کے دوبارہ آغاز پر بات چیت تیز کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسی اور بھارت پر 50 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کے تناظر میں یہ پیش رفت اہم سمجھی جا رہی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای آئندہ ہفتے نئی دہلی کا دورہ کریں گے جہاں وہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے متنازع ہمالیائی سرحد پر مذاکرات کریں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی رواں ماہ کے آخر میں سات سال بعد پہلی بار چین جائیں گے تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کر سکیں اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں سرحدی گشت پر معاہدے کے بعد تعلقات میں جمود ٹوٹا، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور فضائی روابط پر پڑنے والے منفی اثرات کم ہوئے۔ دونوں ممالک نے 2020 سے معطل براہِ راست پروازیں بحال کرنے اور ہمالیہ کے تین تجارتی راستے دوبارہ کھولنے پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت مقامی آبادی کی زندگی بہتر بنانے اور عوامی روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کی سرکاری تھنک ٹینک نے چینی سرمایہ کاری پر سخت قواعد نرم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔