فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر اور خیرپور چیمبر آف کامرس کے سرپرست اعلیٰ شبنم ظفر نے کاروباری برادری کے خلاف وفاقی بجٹ 2025-2026 میں اعلان کردہ سخت اقدامات واپس لینے کے حکومتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے سابق نگراں وفاقی وزیر برائے تجارت گوہر اعجاز، یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر اور ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کی اس کوشش کو سراہا کہ انہوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر سینئر حکام کے سامنے کاروباری برادری کے تحفظات پیش کیے۔

شبنم ظفر نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس نافذ کرنے کے کئی ایسے اقدامات شامل ہیں جو ملک کی کاروباری، صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہایت نقصان دہ ہیں، ان اقدامات نے کاروباری برادری میں خوف کی فضا پیدا کر دی تھی۔ تاہم باضابطہ مشاورت کے عمل کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 37A، انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 21(ایس)، ای۔انوائسنگ، سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 8B اور دفعہ 40B جیسے اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف ان امور پر تفصیلی بحث ہوئی بلکہ تقریباً تمام مسائل اب حکومت کے ساتھ خوش اسلوبی سے حل ہو چکے ہیں۔ پاکستان بھر کی کاروباری برادری وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام متعلقہ وزراء و سینئر حکام کا قومی مفاد میں بروقت مسائل کے حل پر شکریہ ادا کرتی ہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں تمام متعلقہ نوٹسز اور سرکلرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025