چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے اہم چِپس پر برآمدی پابندیاں نرم کرے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے ممکنہ سربراہی اجلاس سے قبل ایک تجارتی معاہدے کا راستہ ہموار ہو سکے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ چینی حکام نے واشنگٹن میں ماہرین کو بتایا ہے کہ بیجنگ چاہتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہائی بینڈ وِڈتھ میموری (ایچ بی ایم) چِپس پر عائد برآمدی کنٹرولز میں نرمی کرے۔ یہ چِپس ڈیٹا سے بھرپور اے آئی کاموں کو تیزی سے انجام دینے میں مدد دیتے ہیں اور خاص طور پر اینویڈیا کے اے آئی گرافک پروسیسرز کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، اس لیے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ امریکی کنٹرولز ہواوے سمیت چینی کمپنیوں کی اپنی اے آئی چِپس بنانے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ مسلسل جدید چِپس کی چین کو برآمدات محدود کرتی آئی ہے تاکہ بیجنگ کی اے آئی اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی کو روکا جا سکے۔

اگرچہ اس پالیسی نے امریکی کمپنیوں کی چین میں بڑھتی ہوئی طلب کو مکمل طور پر پورا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، لیکن چین اب بھی دنیا کی سب سے بڑی سیمی کنڈکٹر مارکیٹوں میں سے ایک ہے اور امریکی چپ ساز اداروں کے لیے ایک اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔