جنوبی کوریا کی فوج میں گزشتہ چھ برس کے دوران 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور اب اس کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار رہ گئی ہے۔ وزارتِ دفاع کی رپورٹ کے مطابق یہ کمی لازمی فوجی سروس کے لیے بھرتی کی عمر کے مردوں کی آبادی میں تیزی سے کمی کے باعث ہوئی ہے، جبکہ ملک دنیا کی کم ترین پیدائش کی شرح رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھرتی کے قابل نوجوان مردوں کی تعداد 2019 سے 2025 کے دوران 30 فیصد کم ہو کر 2 لاکھ 30 ہزار رہ گئی ہے۔ اس کمی کے باعث افسران کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو فوجی آپریشنز میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
جنوبی کوریا کی فوج کا حجم 2000 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً 6 لاکھ 90 ہزار تھا جو 2019 میں کم ہو کر 5 لاکھ 63 ہزار رہ گیا۔ شمالی کوریا کے پاس تقریباً 12 لاکھ فعال فوجی ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق فوج میں افرادی قوت کی کمی 50 ہزار ہے، جن میں سے 21 ہزار نان کمیشنڈ افسران کی کمی ہے۔ جنوبی کوریا کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے اور شرح پیدائش 2024 میں محض 0.75 رہی۔ آبادی 2020 میں 5 کروڑ 18 لاکھ سے کم ہو کر 2072 تک 3 کروڑ 62 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔