وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کے روز ویزا اصلاحات پر تفصیلی غور کیا، جن کا مقصد پاکستانی اوورسیز کمیونٹی کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، ڈپٹی وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت وزارتِ خارجہ میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں بیرونِ ملک پاکستان کے سفارتی مشنز میں 2024 میں شروع کی گئی ویزا پراسیس اصلاحات کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ویزا کے طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے، شفافیت بڑھانے اور اوورسیز پاکستانیوں، سرمایہ کاروں اور بزنس کمیونٹی کے لیے ویزا خدمات کو فاسٹ ٹریک پر فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔

اسحاق ڈار نے اپنی ہدایت پر متعارف کرائی گئی اصلاحات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، جن کا مقصد ویزا خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان پہلے ہی کئی ممالک کے لیے ای ویزا سروس متعارف کرا چکا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طریقہ کار مزید آسانی کے ذریعے پراسیسنگ وقت کم کیا جائے اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنایا جائے۔

ڈپٹی وزیرِ اعظم نے سفارتی مشنز کو ہدایت دی کہ اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ سفر اور کاروباری مواقع میں سہولت فراہم ہو۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ اصلاحات حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد قونصلر خدمات کو بہتر بنانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ عملدرآمد کی نگرانی کرے اور پاکستانی اوورسیز کمیونٹی کے لیے مزید سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025