دنیا

ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات آئندہ چند روز میں متوقع، کریملن کی تصدیق

  • جون 2021 میں جنیوا میں امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں سربراہان مملکت کی یہ پہلی ملاقات ہو گی
شائع اپ ڈیٹ

کریملن نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان دو طرفہ سربراہی ملاقات آئندہ چند دنوں میں طے پا گئی ہے، جس کے لیے مجوزہ مقام پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔

جون 2021 میں جنیوا میں امریکی صدر جو بائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات کے بعد پہلی بار امریکہ اور روس کے موجودہ صدور براہِ راست آمنے سامنے ہوں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ یوکرین پر روسی حملے کے خاتمے کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم، ماسکو اور کیف کے درمیان تین براہِ راست مذاکراتی ادوار کے باوجود فائر بندی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، اور دونوں فریقوں کے موقف میں اب بھی شدید اختلافات برقرار ہیں۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ ”بہت جلد“ صدر پیوٹن سے براہِ راست ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان دونوں کی آخری ملاقات 2019 میں جاپان میں جی 20 اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، تاہم ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی مرتبہ ٹیلیفونک رابطے بھی ہوئے ہیں۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فریق کی تجویز پر آئندہ دنوں میں ایک دو طرفہ سربراہی اجلاس منعقد کرنے پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ہم اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر اس ملاقات کی تفصیلات طے کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔

کریملن کا کہنا ہے کہ سربراہی ملاقات کے مقام پر بھی ”اصولی طور پر“ اتفاق ہو چکا ہے، تاہم اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا ہے کہ اگلا ہفتہ اس ملاقات کے لیے ہدف کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

پیوٹن، زیلنسکی ملاقات کا امکان؟

فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر فوجی حملے کے بعد سے اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ لاکھوں شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ روسی بمباری نے مشرقی اور جنوبی یوکرین کے بڑے حصے تباہ کر دیے ہیں۔

اگرچہ امریکہ، یورپی ممالک اور یوکرین کی جانب سے بارہا جنگ بندی کی اپیلیں کی گئی ہیں، مگر صدر ولادیمیر پیوٹن نے انہیں مسلسل نظرانداز کیا ہے۔

استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران روسی مذاکرات کاروں نے یوکرین پر سخت علاقائی شرائط عائد کیں، جن میں کیف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان علاقوں سے دستبردار ہو جن پر ابھی بھی اس کا کنٹرول ہے، اور مغربی فوجی امداد سے مکمل لاتعلقی اختیار کرے۔

روسی قیادت نہ صرف صدر ولادیمیر زیلنسکی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتی رہی ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کر رکھا ہے کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کسی براہِ راست ملاقات کا امکان تب تک نہیں ہے جب تک فریقین کسی امن معاہدے کے نکات پر پہلے سے متفق نہ ہو جائیں۔

یہ تمام تر پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں صدر پیوٹن سے ملاقات کی ہے اور اسی ملاقات کے ایک روز بعد ٹرمپ ، پیوٹن سربراہی ملاقات کی خبر سامنے آئی ہے۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان تین فریقی ملاقات کی تجویز پیش کی تھی، تاہم روس نے اس تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ روسی فریق نے اس امکان کو مکمل طور پر بغیر کسی ردعمل کے چھوڑ دیا۔

ادھر، یوکرینی صدر زیلنسکی نے جمعرات کے روز صدر پیوٹن سے براہِ راست ملاقات کی اپنی اپیل پھر دہرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طریقے سے ہی امن کی طرف پیش رفت ممکن ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ اس فارمیٹ کے لیے وقت کا تعین اور زیرِ بحث آنے والے معاملات کی فہرست طے کرنا ضروری ہے۔

بعد ازاں زیلنسکی نے جرمن چانسلر فریڈرک میرٹز سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ جرمن حکومت کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔

تاہم زیلنسکی نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ امن مذاکرات میں یورپ کو شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ جنگ یورپ میں ہو رہی ہے، اور یوکرین یورپ کا لازمی حصہ ہے۔ ہم یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کر رہے ہیں، لہٰذا یورپ کو ان تمام متعلقہ عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔

زیلنسکی نے مزید بتایا کہ وہ فرانس اور اٹلی کے حکام سے بھی رابطے میں ہیں، اور دن بھر مزید مشاورتی گفتگو کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج سیکورٹی مشیران کی ایک آن لائن ملاقات ہوگی تاکہ یوکرین، پورے یورپ اور امریکہ کے درمیان مشترکہ موقف پر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ یوکرین ملاقاتوں سے نہیں گھبراتا، اور ہمیں روسی فریق سے بھی اتنی ہی جرات مندانہ سوچ کی توقع ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس جنگ کا خاتمہ کریں۔