امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ایپل امریکہ میں 100 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرے گا، جس سے کمپنی کو بیرونِ ملک تیار کردہ آئی فونز پر ممکنہ ٹیرف (محصولات) سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ نئی سرمایہ کاری ایپل کی اگلے چار سالوں میں مجموعی امریکی سرمایہ کاری کو 600 ارب ڈالر تک لے جاتی ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 20,000 امریکی کارکنوں کی بھرتی کا اعلان کیا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد امریکہ میں ایپل کی سپلائی چین اور جدید مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بڑھانا ہے، تاہم یہ ابھی بھی ٹرمپ کی اس مطالبے سے کم ہے کہ آئی فونز کی مکمل تیاری امریکہ میں ہونی چاہیے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کمپنیاں جیسے ایپل، وہ واپس آ رہی ہیں۔ سب واپس آ رہی ہیں۔ اس موقع پر ایپل کے سی ای او ٹم کک نے ٹرمپ کو 24 قیراط سونے سے مزین امریکی ساختہ تحفہ پیش کیا۔

ٹم کک نے کہا کہ اگرچہ کئی پرزے جیسے سیمی کنڈکٹر، شیشہ اور فیس آئی ڈی ماڈیول پہلے ہی امریکہ میں تیار کیے جا رہے ہیں، تاہم مکمل آئی فون کی تیاری فی الحال بیرون ملک ہی جاری رہے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ سرمایہ کاری ایپل کے معمول کے اخراجات کے مطابق ہے اور ایسی ہی یقین دہانیاں کمپنی ماضی میں بھی دے چکی ہے۔

مئی میں، ٹرمپ نے ایپل کو بیرون ملک بنائے گئے مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی تھی، حالانکہ ان کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایپل کو اس سے استثنا حاصل تھا۔

ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں سے ایپل کو جون سہ ماہی میں 800 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔

ایپل کے تازہ امریکی سرمایہ کاری منصوبے میں کورننگ، اپلائیڈ میٹیریلز، ٹیکساس انسٹرومنٹس، گلوبل فاؤنڈریز، براڈکام، اور سام سنگ شامل ہیں۔

ایپل کے شیئرز بدھ کے روز 5 فیصد بڑھ گئے۔