ای وی سبسڈی اسکیم: ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس، 3,170 رکشے و لوڈرز متعارف ہونگے
- مالی سال 26-2025 کے لیے اس منصوبے کی مالی معاونت کے لیے پہلے ہی 9 ارب روپے مختص کیے جا چکے ہیں، وزارتِ خزانہ
وزارتِ خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کے روز ایک خلاصہ (سمری) کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد پاکستانی شہریوں میں الیکٹرک بائیکس اور رکشوں/لوڈرز کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
یہ منظوری وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اجلاس میں دی گئی ہے، جنہوں نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی۔ اجلاس میں متعدد اہم معاشی معاملات پر غور کیا گیا، جن میں نئی انرجی وہیکل پالیسی کا نفاذ،قائداعظم یونیورسٹی کے لیے امدادی گرانٹ میں توسیع اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسنٹو اسکیم سے متعلق ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری شامل ہیں۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے پیش کی گئی الیکٹرک بائیکس اور رکشوں/لوڈرز کے فروغ کے لیے سبسڈی اسکیم کی سمری منظور کر لی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد شہریوں کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب راغب کرنا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے لیے 9 ارب روپے کی بجٹ میں پیشگی منظوری دی جا چکی ہے تاکہ اس اسکیم کو مالی طور پر سہارا دیا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت سرکاری کالجوں کے نمایاں طلبہ کو مفت الیکٹرک بائیکس بھی فراہم کی جائیں گی۔
منظور شدہ منصوبے کے مطابق اسکیم دو مراحل میں نافذ کی جائے گی۔پہلے مرحلے میں، جو جلد وزیرِاعظم کی جانب سے آغاز کیے جانے کی توقع ہے، 40,000 الیکٹرک بائیکس اور 1,000 الیکٹرک رکشے/لوڈرز متعارف کرائے جائیں گے۔ مجموعی طور پر 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3,170 رکشے/لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزارتِ خزانہ کی درخواست پر 30 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد گزشتہ مالی سال کے دوران 58.26 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی ہے۔ یہ واجبات ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسنٹو اسکیم کے تحت زیرِ التوا تھے۔
کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ساتھ مل کر ادائیگی کا طریقۂ کار طے کرے اور اسکیم کا تفصیلی تجزیہ (مفید و مضر پہلو، مالی ماڈل، موقع کی لاگت) اگست کے اختتام تک مکمل کر کے ستمبر کے وسط میں حتمی سفارشات پیش کرے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء شامل ہوں۔
ای سی سی نے قائداعظم یونیورسٹی کے لیے 2 ارب روپے کی بیل آؤٹ گرانٹ کی اصولی منظوری دی، تاہم اسے خود انحصاری کے مالیاتی منصوبے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ساتھ مل کر ایک واضح روڈ میپ پیش کرنا ہو گا، جس میں یہ بتایا جائے کہ وہ مستقبل میں مالی استحکام کیسے حاصل کرے گی اور مسلسل بیل آؤٹ پیکجز پر انحصار کم کیسے کیا جائے گا۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورچوئل شرکت کے ذریعے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز و محکموں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔