جولائی 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 4.1 فیصد تک پہنچ گیا، جو جون میں 3.2 فیصد اور مئی میں 3.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اپریل 2025 میں مہنگائی کی شرح دہائیوں کی کم ترین سطح یعنی 0.3 فیصد پر آ گئی تھی۔ مالی سال 2024-25 کے لیے مہنگائی کی بڑھنے کی اوسط شرح 11.09 فیصد رہی، جب کہ رواں مالی سال میں یہ کم ہو کر 4.07 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم یہ تخمینہ نہ تو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اور نہ ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیش گوئیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
جولائی کا سی پی آئی جو مالی سال 2025-26 کا پہلا مہینہ ہے، بتدریج اُس ہدفی دائرہ کار کے قریب پہنچ رہا ہے جو مارچ 2025 سے ایم پی سی کی جانب سے مسلسل 5 سے 7 فیصد کے درمیان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایم پی سی نے بارہا خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے منظرنامے کو متعدد خطرات لاحق ہیں جن میں خوراک و توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اضافی محصولات، عالمی اشیاء کی غیر یقینی قیمتیں اور بڑی معیشتوں کی تحفظ پسند پالیسی شامل ہیں۔اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2024 میں صارف قیمت اشاریہ 4.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا جب کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے 16 دسمبر کو ڈسکاؤنٹ ریٹ 13 فیصد مقرر کیا — جو بعد ازاں 27 جنوری 2025 کو کم ہو کر 12 فیصد اور 5 مئی 2025 کو مزید کم ہو کر 11 فیصد کردیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں سی پی آئی میں متوقع اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئی ایم ایف 15 ستمبر کو طے شدہ اجلاس میں شرح سود میں مزید کمی کی منظوری دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرے گا اور اگر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا تو 27 اکتوبر اور 15 دسمبر کو ہونے والے آئندہ ایم پی سی اجلاسوں میں بھی شرح سود میں کمی کا امکان کم رہے گا۔اس صورتحال میں بجٹ میں موجود اس تخمینے کا پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے جس کے مطابق موجودہ اخراجات میں شرح منافع (مارک اپ) کی ادائیگی — جو مجموعی اخراجات کا 50 فیصد ہے — میں کمی متوقع ہے۔ یہ وہ کمی ہے جسے وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پر بحث کے دوران فنانس کمیٹی اجلاسوں میں انتہائی ممکن قرار دیا تھا۔
آئی ایم ایف نے مئی 2025 میں اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے پہلے جائزہ دستاویزات میں نوٹ کیا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران صارف قیمتوں میں (مدتی اوسط کے لحاظ سے) 7.7 فیصد اضافہ ہوا جو کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے حساب سے بتائی گئی 11.07 فیصد شرح سے کم ہے۔ موجودہ مالی سال کے لیے آئی ایم ایف نے مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 6.5 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے جو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مقرر کردہ دائرہ کار کے اندر آتی ہے۔ آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ مالی سال 25 کی مہنگائی کی شرح بھی نیچے کی جانب نظرثانی کی گئی ہے اگرچہ آنے والے مہینوں میں منفی بنیاد اثرات کی وجہ سے اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور مالی سال 26 کے دوران ہدفی حد (5 سے 7 فیصد) پر پائیدار واپسی کی توقع ہے بشرطیکہ پالیسی مناسب حد تک سخت رہے — یہ بیان اس بات کی تائید کرتا ہے کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود میں مزید کمی کا امکان کم ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو نہ صرف اگلی قسط معطل ہو جائے گی بلکہ تین دوست ممالک بھی تقریباً 16 ارب ڈالر کی رقم کی تجدید سے انکار کردیں گے، جو ممکنہ طور پر ایک فوری ڈیفالٹ کا خدشہ بڑھا دے گا۔
دریں اثنا، پی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے کہ جولائی میں چینی کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا، جو خوراک کے زمرے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ اضافہ وفاقی حکومت کی اُن ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو سابق حکومتوں کی طرح پاکستان شوگر ملرز ایسوسی ایشن کے بااثر ارکان کی جانب سے فراہم کردہ غلط اسٹاک ڈیٹا کی مؤثر نگرانی میں ناکام رہی۔ اس ایسوسی ایشن کے نمائندے شوگر ایڈوائزری بورڈ میں بھی شامل ہیں، اور ان کا مقصد ہمیشہ برآمدات کی اجازت حاصل کرنا رہا ہے — چاہے بین الاقوامی قیمت کم اور ملکی قیمت زیادہ ہو، جس کی صورت میں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے برآمدی سبسڈی دی جاتی ہے۔
غذائی اشیاء کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ، جس میں گیس چارجز (22.91 فیصد)، بجلی چارجز (14.18 فیصد)، ٹرانسپورٹ سروسز (4.77 فیصد، جو پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی وجہ سے ہوا) اور موٹر فیول (4.45 فیصد) شامل ہیں حکومت کے ان انتظامی فیصلوں کا نتیجہ ہے جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت کیے گئے۔
خلاصہ یہ کہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، بے روزگاری کی شرح 22 فیصد کی بلند سطح پر ہے اور ملک کی کل محنت کش آبادی کے 93 فیصد کی اجرتیں گزشتہ پانچ سے چھ سال سے جوں کی توں ہیں تو ایسے میں غربت کی سطح ورلڈ بینک کے مطابق خطرناک حد یعنی 44.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تشویشناک اعداد و شمار کا سنجیدگی سے اعتراف کرے اور مناسب تدارکی اقدامات کرے تاکہ کسی ممکنہ شہری بے چینی کو روکا جا سکے — جو ایک خطرہ ہے جس کی بارہا نشاندہی فنڈ کی جانب سے کی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025