غزہ میں شہادتیں 60 ہزار سے متجاوز،عالمی نگراں ادارے کا قحط سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ
ایک عالمی نگراں ادارے نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کا بدترین منظرنامہ جنم لے رہا ہے اور فوری کارروائی ناگزیر ہے تاکہ وسیع پیمانے پر اموات سے بچا جا سکے جبکہ اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ غذائی تنبیہ اور نئی اموات کی تعداد اس تنازع کا ایک کڑا نشان ہیں جو تقریباً دو سال پہلے حماس کے اسرائیل پر حملے سے شروع ہوا، جس نے غزہ کی زیادہ تر سرزمین کو تباہ کر دیا اور خطے میں کشیدگی کو بھڑکا دیا۔
انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) کی جانب سے جاری کردہ تنبیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں پیدا شدہ انسانی ساختہ قحط بحران کو باضابطہ قحط کے طور پر قرار دیا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل پر مزید خوراک کی ترسیل کے لئے دباؤ بڑھایا جا سکے۔
قحط، غذائی قلت اور بیماریوں کے شواہد
بین الاقوامی تنقید کے بڑھنے کے باوجود، اسرائیل نے ہفتے کے آخر میں امدادی رسائی کو آسان بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ تاہم ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی وقفوں کے آغاز کے بعد سے انہیں مطلوبہ اجازتیں نہیں مل رہیں تاکہ وہ کافی امداد فراہم کر سکیں۔
آئی پی سی نے کہا ہے کہ ”شدید قحط، غذائی قلت اور بیماریوں کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ بھوک سے متعلق اموات میں اضافہ ہو رہا ہے،“ اور مزید کہا کہ غذائی استعمال کے حوالے سے غزہ کے بیشتر حصوں میں ’قحط کی حد‘ عبور کر لی گئی ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی ایک باضابطہ تجزیہ مکمل کرے گا، جس کی بنیاد پر غزہ کو باضابطہ طور پر ”قحط زدہ“ قرار دیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق کسی علاقے میں قحط اُس وقت قرار دیا جاتا ہے جب کم از کم 20 فیصد آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہو، ہر تیسرے بچے میں شدید غذائی کمی پائی جائے اور ہر 10,000 افراد میں روزانہ دو افراد بھوک یا غذائی کمی اور بیماریوں سے جان کی بازی ہار رہے ہوں۔
غزہ کے محکمہ صحت نے رپورٹ کیا ہے کہ بھوک سے متعلقہ وجوہات کی بنا پر اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک ایسی 147 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 88 بچے شامل ہیں، اور ان میں سے بیشتر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جاں بحق ہوئے۔
بھوک سے نڈھال فلسطینی بچوں کی تصاویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
اسرائیل کے قریب ترین اتحادی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں اور وعدہ کیا کہ وہ نئے فوڈ سینٹرز قائم کریں گے تاکہ متاثرین کو خوراک مہیا کی جا سکے۔
اسرائیل نے غزہ میں قحط کو بطور پالیسی اختیار کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ منگل کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے کہا کہ اگرچہ غزہ کی صورتحال سنگین ہے، لیکن وہاں قحط کے حوالے سے جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
مہلک ترین تنازع
غزہ کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ 60 ہزار شہادتوں کی تازہ رپورٹ، جسے اقوام متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی ماضی میں قابلِ اعتماد قرار دے چکے ہیں، اس بات کی واضح علامت ہے کہ یہ اسرائیل فلسطین تنازع کی تاریخ کا سب سے مہلک مرحلہ ہے۔
اس سے قبل 2014 کا تنازع سب سے خونریز سمجھا جاتا تھا، جب غزہ میں 2,100 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی جبکہ اسرائیل کے 67 فوجی اور 6 شہری ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم اس بار فلسطینی حکام نے جو تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، وہ جنگجوؤں اور عام شہریوں میں تفریق نہیں کرتے۔
ریسکیو کارکنان اور حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں نصیرات کیمپ پر کی گئی کارروائی کے دوران کم از کم 30 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں 14 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں۔ یہ حملے رات کے وقت کیے گئے ہیں۔
العودہ اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ صلاح الدین روڈ پر اس وقت مزید 13 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جب وہ امدادی ٹرکوں کے غزہ میں داخلے کا انتظار کر رہے تھے۔
غزہ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب مجموعی طور پر 55 فلسطینی شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے ان حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یرغمالیوں کی صورتحال
اسرائیل کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 50 اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے۔
گزشتہ ہفتے فائر بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے تازہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اُس وقت تک لڑائی جاری رکھے گا جب تک تمام یرغمالیوں کو آزاد نہ کرا لیا جائے اور حماس کی عسکری و انتظامی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے۔
صرف نصف امدادی درخواستیں منظور
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران 5,000 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے اور اسرائیل اُن افراد کی مدد کرنے کو تیار ہے جو فضائی امداد (ایئرڈراپس) کرنا چاہتے ہیں — اگرچہ بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق یہ طریقہ نہایت غیر مؤثر اور نمائشی نوعیت کا ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے سینیئر مشیر راس اسمتھ نے جنیوا میں صحافیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے بتایا کہ اتوار کو انسانی امداد کے تناظر میں لڑائی میں عارضی وقفے کے آغاز کے بعد سے اب تک ہم صرف تقریباً 50 فیصد امدادی سامان ہی غزہ میں پہنچا پا رہے ہیں، جو ہماری ضرورت سے کہیں کم ہے۔ جب تک ہمیں درکار مقدار میں سامان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی، ہم عوام کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔
امدادی نظام پر سیاسی کشمکش
اسرائیل کی 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد، 19 مئی کو اقوام متحدہ کی قیادت میں محدود امدادی سرگرمیاں بحال ہوئیں، اور ایک ہفتے بعد امریکہ میں قائم ”غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف)“، جسے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے، نے بھی خوراک کی تقسیم کا آغاز کیا۔
تاہم ان متوازی امدادی کوششوں نے ایک سفارتی کشمکش کو جنم دیا، جس میں ایک طرف اسرائیل، امریکہ اور جی ایچ ایف ہیں اور دوسری جانب اقوام متحدہ، بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اور درجنوں ممالک۔
اسرائیل اور امریکہ کا الزام ہے کہ حماس امداد چُرا رہی ہے — جس کی حماس تردید کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کا مؤقف ہے کہ اس کے پاس حماس کے ذریعے امداد ہتھیانے کے شواہد موجود نہیں۔
حماس الزام لگاتی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر قحط پیدا کر رہا ہے اور امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
جی ایچ ایف کی خوراک پر سخت تنقید
آئی پی سی (انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن) نے کہا ہے کہ غزہ کا 88 فیصد علاقہ یا تو نکاسی کے احکامات کے تحت ہے یا فوجی کارروائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ادارے نے جی ایچ ایف کی امدادی حکمت عملی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی ایچ ایف کی جانب سے فراہم کردہ زیادہ تر خوراک کو پکانے کے لیے پانی اور ایندھن درکار ہے، جو وہاں دستیاب نہیں۔
آئی پی سی کی فیمین ریویو کمیٹی کا کہنا تھا کہ جی ایچ ایف کے خوراک پیکجز کا ہمارا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی تقسیم سے بڑے پیمانے پر قحط جنم لے سکتا ہے۔
ادھرجی ایچ ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے امدادی باکسز میں شامل اشیاء وہی ہیں جو دیگر عالمی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں اور یہ توانائی اور غذائیت کے بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔