پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روپے کے مصنوعی طور پر قابو پائے گئے ایکسچینج ریٹ کے مسئلے کو فوری طور پر حل کریں، کیونکہ موجودہ ڈالر ریٹ کو مصنوعی طور پر بلند رکھا جا رہا ہے۔ معاشی اشاریوں کے مطابق ڈالر کی حقیقی قدر تقریباً 260 روپے ہونی چاہیے۔
پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے وزیراعظم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں 20 روپے کی درستگی بھی عوامی قرض اور مہنگائی میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تاریخی طور پر روپے کو گراوٹ کے بعد بحال کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے طویل مدتی عدم استحکام پیدا ہوا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مالی سال 25 (جولائی تا جون) کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2,106 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 2,072 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں ہے۔
فورم کا کہنا ہے کہ موجودہ 283 روپے فی ڈالر کا ایکسچینج ریٹ ملکی معیشت کے لیے ناقابلِ برداشت ہے اور حقیقی معاشی ریلیف اسی وقت ممکن ہے جب روپے کو مستحکم کیا جائے۔
احمد جواد نے بتایا کہ مہنگائی 4 فیصد اور کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 3 فیصد تک گر چکا ہے، اس کے باوجود 11 فیصد شرحِ سود کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ پی بی ایف نے مطالبہ کیا کہ 30 جولائی کو طے شدہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کم از کم 9 فیصد تک لائی جائے۔
فورم نے انکشاف کیا کہ حکومت 50 کھرب روپے کے مقامی قرض پر 11 فیصد سود ادا کر رہی ہے، جو موجودہ مہنگائی کی شرح سے 5 سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ اس فرق کے باعث قومی خزانے پر سالانہ تقریباً 3 کھرب روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جو عوامی فلاح اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر خرچ ہو سکتا ہے۔ کم شرح سود پاکستان کی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنانے میں بھی مدد دے گی۔
پی بی ایف نے مزید کہا کہ پاکستان کو ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر برآمدی بنیادوں میں تنوع پیدا کرنا چاہیے اور نئی صنعتوں اور منڈیوں کو تلاش کرنا ہوگا۔ فورم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ آئندہ مانیٹری پالیسی میں بلوچستان کی کاروباری برادری کو بھی قرض تک رسائی فراہم کی جائے۔
آخر میں احمد جواد نے کہا کہ پیداواری شعبوں کو درپیش مسائل پر عدم توجہی سے کاروباری برادری میں مایوسی بڑھ رہی ہے، اور امید ظاہر کی کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی 30 جولائی کو ترقی دوست اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025