امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے اسکاٹ لینڈ کے مغربی حصے میں واقع اپنے گالف ریزورٹ میں ملاقات کریں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ دو طرفہ تجارتی معاہدے اور غزہ میں بڑھتے قحط پر بات چیت متوقع ہے۔
اتوار کو یورپی یونین کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ اسٹارمر بھی اس پیشرفت سے خوش ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ کے وزیراعظم اس معاملے میں براہِ راست شامل نہیں لیکن وہ دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کیا، اور وہ خوش ہوں گے۔
اسٹارمر امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد 50 فیصد ٹیرف میں کمی کے خواہاں تھے، لیکن ٹرمپ نے اتوار کو اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔
دونوں رہنما ٹرن بیری کے بعد ٹرمپ کی مشرقی اسکاٹ لینڈ میں واقع دوسری جائیداد ایبرڈین بھی جائیں گے۔ اسٹارمر سوئٹزرلینڈ سے اسکاٹ لینڈ روانہ ہوئے، جہاں انگلینڈ نے اتوار کو خواتین یورپی چیمپئن شپ فائنل جیتا۔
دورے پر غزہ کے جنگ زدہ علاقے میں بگڑتے حالات کا سایا ہے، جہاں بھوک سے مرتے فلسطینیوں کی تصاویر نے دنیا کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ درجنوں افراد غذائی قلت کے باعث جان سے جا چکے ہیں جبکہ امدادی ادارے 2.2 ملین آبادی میں بڑے پیمانے پر بھوک کی وارننگ دے رہے ہیں۔
اسٹارمر نے اپنے وزراء کو موسمِ گرما کی تعطیلات سے واپس بلا لیا ہے تاکہ غزہ کی صورتحال پر کابینہ کا اجلاس کر سکیں، کیونکہ ملک میں اور بیرونِ ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسٹارمر کے ساتھ اسرائیل اور یوکرین کے امور پر بھی بات کریں گے۔ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی، جب حماس کے حملوں میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی جوابی کارروائی میں تقریباً 60,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔