وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اقتصادی ڈیجیٹائزیشن، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور وفاقی وزارتوں و محکموں میں تکنیکی ماہرین کی میرٹ پر تقرری کے لیے پرعزم ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی پی پی اے) کی پیش رفت سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ تمام تقرریاں میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے تحت ہوں گی، اور کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ اب تک 15 تکنیکی تقرریاں مکمل ہوچکی ہیں جبکہ مزید 47 آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے۔ سات اہم وزارتوں اور محکموں میں چیف ایگزیکٹو آفیسرز، چیف فنانشل آفیسرز اور منیجنگ ڈائریکٹرز کے لیے 30 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق پٹرولیم ڈویژن اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن میں ابتدائی انٹرویوز مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ وفاقی وزارتوں نے سرمایہ کاری کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، ریلوے اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جاتی ایکشن پلان تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ فوڈ سیکیورٹی، بحری امور، معدنیات، صنعت، رہائش اور توانائی کے لیے فریم ورک تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔

مزید بتایا گیا کہ حکومت نے 18 اقتصادی شعبوں کے لیے سرمایہ کاری کی پیشکش پر مبنی پچ بکس تیار کرلی ہیں تاکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان، قطر اور کویت جیسے شراکت دار ممالک کے ساتھ منصوبہ جات میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے علاوہ دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025