وزیراعظم شہبازشریف نے ملک کی تاریخ کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کی منظوری دے دی جو ایک کارکردگی پر مبنی مالیاتی ماڈل ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو قابلِ روزگار، جدید اور منڈی سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کر کے انہیں قومی اور عالمی لیبر مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت نوجوانوں کے لیے روزگار کے روڈ میپ پر ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہ بانڈ پے فار سکسیس ماڈل پر مبنی ہوگا جس میں نجی شعبہ مہارتوں کی تربیت کے لیے سرمایہ کاری کرے گا جب کہ حکومتی یا ڈونر فنڈز صرف اسی صورت جاری ہوں گے جب روزگار یا آمدنی سے متعلق نتائج آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ ہوں گے۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم اور ہنر کی فراہمی سے ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں میں تربیتی مواقع بڑھائے جائیں۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے نوجوانوں کو تیار کیا جائے جس میں میزبان ممالک کی مقامی زبانوں میں تربیت کو بھی شامل کیا جائے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملکی اور عالمی سطح پر روزگار کے امکانات پر مبنی تفصیلی روڈ میپ تیار کرکے ان کے سامنے پیش کیا جائے اور واضح کیا کہ وہ ہر دو ماہ بعد پیش رفت کا ذاتی طور پر جائزہ لیں گے۔

انہوں نے ڈیجیٹل یوتھ حب کے ذریعے نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے ہدفی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ حب پر اب تک 5 لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہوچکے ہیں جبکہ 17 لاکھ سے زائد افراد موبائل ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔

اس وقت اس پلیٹ فارم پر 47 ہزار سے زائد ملکی 100,000 بیرونِ ملک ملازمتوں اور 2,000 سے زیادہ اسکالرشپس کی معلومات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ 500 سے زائد ادارے — جن میں پاکستانی سفارت خانے، نجی کمپنیاں، سرکاری محکمے، اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی این جی اوز شامل ہیں — اس پورٹل سے منسلک ہیں۔