تیل کی عالمی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ یورپی یونین کی روسی تیل پر نئی پابندیوں، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے بڑھتی پیداوار اور عالمی اقتصادی ترقی پر ٹیرف کے دباؤ کے باعث ایندھن کی طلب کے غیر یقینی منظرنامے پر مرکوز رہی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 5 سینٹ اضافے کے ساتھ 69.33 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جو جمعہ کو 0.35 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 2 سینٹ بڑھ کر 67.36 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو پچھلے سیشن میں 0.30 فیصد گرا تھا۔

یورپی یونین نے جمعہ کو یوکرین جنگ کے باعث روس پر 18ویں مرحلے کی پابندیاں منظور کیں، جن میں بھارت کی نایارا انرجی بھی شامل ہے جو روسی خام تیل سے تیار شدہ مصنوعات برآمد کرتی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مغربی پابندیوں کے خلاف ایک خاص مدافعت پیدا کر چکا ہے۔

روسی تیل کمپنی روزنیفٹ، جو نایارا میں حصص رکھتی ہے، نے نئی پابندیوں کو ’’غیر منصفانہ اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ براہِ راست بھارت کی توانائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔

ایران، جو ایک اور پابندی زدہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، جمعہ کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ استنبول میں جوہری مذاکرات کرے گا۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب یورپی ممالک نے خبردار کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔

امریکا میں گزشتہ ہفتے تیل نکالنے والے فعال رِگز کی تعداد دو کم ہو کر 422 رہ گئی جو ستمبر 2021 کے بعد سب سے کم ہے۔ ادھر امریکا کی یورپی یونین سے درآمدات پر نئے ٹیرف یکم اگست سے نافذ ہوں گے، تاہم امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک پر امید ہیں کہ جلد تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔