آسٹریا کی ایڈووکیسی گروپ نویب (noyb) نے جمعرات کے روز چین کی کمپنیوں علی ایکسپریس، ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے خلاف ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزیوں پر شکایات دائر کی ہیں، اور الزام عائد کیا ہے کہ یہ کمپنیاں یورپی یونین کے قوانین کے تحت صارفین کو ان کے مکمل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

نویب کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر ٹیکنالوجی کمپنیاں صارف کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ٹول فراہم کرتی ہیں، کچھ چینی کمپنیوں نے اس تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔

نویب کی ڈیٹا پرٹیکشن وکیل کلیانتھی سارڈیلی نے کہا کہ”ٹک ٹاک، علی ایکسپریس اور وی چیٹ صارفین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنا چاہتی ہیں – لیکن یورپی قوانین کے تحت لازمی طور پر مکمل رسائی دینے سے انکاری ہیں۔“

نویب کو ایپل، الفابیٹ (گوگل کی پیرنٹ کمپنی)، اور میٹا (فیس بک) جیسی امریکی کمپنیوں کے خلاف شکایات دائر کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جن کی بنیاد پر کئی تحقیقات ہو چکی ہیں اور اربوں ڈالر کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

رواں سال جنوری میں بھی نویب نے چھ چینی کمپنیوں کے خلاف شکایات دائر کی تھیں اور مطالبہ کیا تھا کہ چین کو ڈیٹا کی منتقلی معطل کی جائے اور ایسی کمپنیوں پر ان کی عالمی آمدن کے 4 فیصد تک جرمانے عائد کیے جائیں۔