سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 140 کے تحت کسی تاریخ کے تعین کے بغیر فوری طور پر زبردستی ٹیکس وصولی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس عائشہ اے ملک کی تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ شق 140 واضح طور پر اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ جس فریق کے پاس ٹیکس گزار کی رقم موجود ہو، اُسے ادائیگی کے لیے مناسب مدت کے ساتھ نوٹس دیا جائے۔ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا جس میں جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد بھی شامل تھے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس ریکوری رولز 2002 کا قاعدہ 210C(3)، جو فوری وصولی کی اجازت دیتا ہے، شق 140 کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قاعدے قانون کے تابع ہوتے ہیں اور اگر کسی قاعدے میں قانون سے تضاد ہو تو قانون کو فوقیت حاصل ہوگی۔
عدالت نے قرار دیا کہ شق 140 کا متن فوری یا خودکار وصولی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ کمشنر کو نوٹس جاری کرنے اور مناسب وقت فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ریکوری سے قبل نوٹس دینا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ سماعت) اور آرٹیکل 14 (عزت نفس) کے تحت بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے۔
یہ مقدمہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سیرین ایئر پرائیویٹ لمیٹڈ کے مقدمات سے متعلق تھا۔ دونوں کمپنیوں کو ان کے خلاف فیصلوں کے فوراً بعد بینکوں کو نوٹس جاری کر کے رقم کی فوری ریکوری کی ہدایت دی گئی، جس پر عدالت نے سخت اعتراض کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس عمل سے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مالیاتی امور میں بھی ٹیکس دہندگان کے وقار اور آئینی حقوق کا مکمل احترام ضروری ہے اور زبردستی کی وصولی بھی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025