کسٹمز اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کی اسمگل شدہ لگژری گاڑیاں غیرقانونی طور پر نیلام شدہ ظاہر کر کے فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ بڑا کرپشن اسکینڈل پاکستان کسٹمز کو ہلا کر رکھ دینے والا ہے، جس میں سینکڑوں لگژری اسمگل شدہ یا نان ڈیوٹی پیڈ (این ڈی پی) گاڑیاں بغیر قانونی کارروائی اور محصولات کی ادائیگی کے براہ راست مارکیٹ میں فروخت کر دی گئیں۔ اس نیٹ ورک میں کسٹمز اہلکاروں، کار ڈیلرز اور بااثر شخصیات کی مبینہ شمولیت سامنے آئی ہے۔

ڈیلی بزنس ریکارڈر کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ گاڑیاں نیلامی کے بعد ٹیکس اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کے بغیر جعلی طور پر ”نیلام شدہ“ ظاہر کی گئیں اور کسٹمز کے ویبوک سسٹم میں غیر قانونی طور پر رجسٹر کی گئیں۔

اس اسکینڈل کا انکشاف اس وقت ہوا جب 9 جولائی 2025 کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریفارمز اینڈ آٹومیشن (کسٹمز)، کراچی نے کسٹمز آپریشنز ونگ (سی او ڈبلیو) کو ایک ہنگامی رپورٹ ارسال کی، جس میں ویبوک سسٹم میں ڈیٹا میں چھیڑ چھاڑ اور جعلسازی کی نشان دہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ڈیپٹی اور اسسٹنٹ کلیکٹرز کے یوزر آئی ڈیز سے سسٹم میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں لگژری اسمگل شدہ گاڑیاں قانونی ضوابط پورے کیے بغیر کسٹمز کے احاطے سے باہر نکال لی گئیں۔

ڈائریکٹوریٹ نے 1,900 سے زائد اسمگل شدہ/این ڈی پی گاڑیوں کا ڈیٹا جانچا جس میں تقریباً 350 لگژری گاڑیوں کی نشاندہی ہوئی جنہیں کبھی بھی حقیقی نیلامی میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور ان پر کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی ادا نہیں کی گئی تھی، لیکن انہیں سسٹم میں نیلام شدہ ظاہر کیا گیا۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ ایک مربوط نیٹ ورک کی کارروائی تھی جو ملک بھر میں مختلف ایف بی آر کلیکٹوریٹس سے جڑا ہوا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے کلیکٹوریٹس کو ریڈار پر رکھا گیا ہے، جبکہ ملتان کلیکٹریٹ سے یہ گاڑیاں غائب ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ غیرقانونی سرگرمی کئی ماہ میں مرحلہ وار انجام دی گئی۔ گاڑیاں پہلے کسٹمز کے احاطے سے غائب کی گئیں، بعد ازاں جعلی بولی دہندگان کی تفصیلات سسٹم میں داخل کی گئیں تاکہ نیلامی کی جعلی دستاویزات تیار کی جا سکیں، جنہیں ایکسائز میں رجسٹریشن کے لیے استعمال کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ سی او ڈبلیو نے متعلقہ کلیکٹوریٹس اور فیلڈ فارمیشنز کو بازیابی کے احکامات جاری کیے ہیں، تاہم کوئی بھی گاڑی ابھی تک ضبط نہیں ہو سکی کیونکہ محکمہ کے پاس ایسے جعلی نیلامی کے ذریعے کلیئر کی گئی گاڑیوں کو ٹریک کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

مزید یہ کہ ان تمام گاڑیوں کو اب صوبائی ایکسائز محکموں میں رجسٹر کرایا جا چکا ہے، جس کی وجہ سے انہیں ضبط کرنا قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ گاڑیاں اب ”اصلی خریداروں“ کی ملکیت کے طور پر سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ایک خاتون ڈپٹی کلیکٹر کو اس اسکینڈل میں معطل کر دیا گیا ہے، تاہم ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اسکینڈل کسی ایک افسر کے ذریعے ممکن نہیں۔ معطل افسر کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جبکہ اس پورے معاملے میں کسٹمز کے اندر ایک منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔

ذرائع نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کار ڈیلرز اور ان خریداروں کے خلاف کارروائی سے قبل اپنے اندرونی نظام میں موجود خرابیوں کا ازالہ کرے، کیونکہ بہت سے خریدار ان گاڑیوں کو لاعلمی میں خرید چکے ہوں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025