پاکستان اور ویتنام کا رواں سال ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا فیصلہ
- دونوں فریقین نے پائیدار تجارتی ترقی کیلئے ادارہ جاتی اور کاروباری روابط بڑھانے پر زور دیا۔
پاکستان اور ویتنام نے اس سال کے دوران پاکستان-ویتنام ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان-ویتنام مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے سی ٹی) کے پانچویں اجلاس کے دوران ہوئی، اس ادارہ جاتی فورم کو آٹھ سال کے وقفے کے بعد ہنوئی، ویتنام میں جمعہ کو دوبارہ فعال کیا گیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی وزارت تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری ناصر حمید اور ویتنام کی نائب وزیر برائے صنعت و تجارت فان تھی تھنگ نے کی۔ اجلاس میں طے پانے والے نکات پر دستخط کی تقریب میں پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان اور ویتنام کے وزیر صنعت و تجارت نگوین ہونگ دیین نے شرکت کی۔
اجلاس میں دو طرفہ تجارت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے تعاون کے لیے کلیدی شعبہ جات جیسے کہ تجارتی سہولت کاری، مارکیٹ تک رسائی، ٹیکسٹائل اور فشریز، حلال سرٹیفکیشن، سول ایوی ایشن، صحت عامہ، اور بینکاری نظام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقین نے اداراتی و کاروباری روابط کو مضبوط بنانے اور مسلسل تجارتی ترقی کے لیے باہمی کوششوں پر زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دو طرفہ تجارت کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔
اس سے قبل، وزیر تجارت جام کمال خان نے ویتنام کے وزیر نگوین ہونگ دیین سے دو طرفہ ملاقات کی جس میں تجارتی و اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی۔ وزارت تجارت کے بیان کے مطابق، یہ اعلیٰ سطح ملاقات دوستی اور شراکت داری کے جذبے کے تحت ہوئی جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اقتصادی و سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
دونوں وزرا نے کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور ٹیکسٹائل، زراعت، ادویات سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور توانائی جیسے شعبہ جات میں تعاون پر زور دیا۔
مزید یہ کہ تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کی طرف پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ دوطرفہ تجارت کو سہل بنایا جا سکے۔
جام کمال خان نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے ویتنام کو وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ تک رسائی کے مواقع کی پیشکش کی۔
دوسری جانب، وزیر نگوین ہونگ دیین نے پاکستانی چاول، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کی درآمدات میں دلچسپی ظاہر کی اور ویتنام میں پاکستانی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہا، خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے اور طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔