وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے زور دیا ہے کہ آبادی کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کے بنیادی معیار کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بات آج اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں عالمی یومِ آبادی کے موقع پر وزارتِ قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔

وزیر خزانہ نے صحت اور منصوبہ بندی کے وزراء کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ انسانی ترقی کے جامع اشاریوں کو وسائل کی منصفانہ تقسیم کی رہنمائی کے لیے این ایف سی میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر مالی وسائل کی تقسیم ممکن ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ ڈونر ایجنسیوں کی ترجیحات اور ترقیاتی مالیاتی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ ماضی میں زیادہ تر فنڈنگ انفراسٹرکچر پر مرکوز رہی، لیکن اب یہ لازم ہو چکا ہے کہ ان وسائل کو صحت، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی جیسے انسانی سرمائے کی ترقی پر خرچ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں دو بڑے وجودی خطرات — یعنی ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیزی سے اضافہ — کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

محمد اورنگزیب نے پاکستان کی آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان قومی ترقی، معاشی منصوبہ بندی اور سماجی بہبود کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی مستقبل کی قیادت خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشوونما کی کمی اور سیکھنے کی محرومی سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور جامع حکمت عملی درکار ہے، جس میں غذائیت، صفائی، صاف پانی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور عوامی آگاہی جیسے عوامل شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبادی کا بڑا حصہ، خاص طور پر خواتین، تعلیم سے محروم ہے۔ ان کے مطابق اگر خواتین، جو آبادی کا کم از کم 50 فیصد ہیں، معاشی طور پر فعال نہیں ہوں گی، تو ملک پائیدار ترقی نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے قومی بجٹ سازی میں تبدیلی کے لیے نئے زاویے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی مالیات کو الگ خانوں میں رکھنے کے بجائے ترقیاتی اخراجات کو ایک متحد قومی نقطہ نظر سے ترتیب دینا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال وفاقی ترقیاتی بجٹ 1 ٹریلین روپے جبکہ صوبوں سمیت مجموعی بجٹ 4.2 ٹریلین روپے ہے۔ اصل چیلنج وسائل کی دستیابی نہیں بلکہ ان کی مؤثر تقسیم اور درست ترجیحات کا تعین ہے۔

انہوں نے پاکستان کے ورلڈ بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا، جس کے چھ میں سے چار ستون آبادی اور ماحولیاتی مسائل پر مبنی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت دس برسوں میں تقریباً 20 ارب ڈالر یعنی سالانہ 600 سے 700 ملین ڈالر کی رقم آبادی سے متعلق اقدامات کے لیے مختص کی جائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسے وسائل کو محض علامتی اقدامات جیسے مانع حمل ادویات پر ٹیکس چھوٹ تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں وسیع پیمانے پر مؤثر سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔