یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن جمعرات کو ایک اعتماد کے ووٹ کا سامنا کر رہی ہیں، جو اگرچہ کامیاب ہونے کا امکان نہیں رکھتا، تاہم اس نے ان کے حامیوں کے درمیان تناؤ اور ان کی قیادت کے انداز پر اعتراضات کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ نایاب نوعیت کا عدم اعتماد کا ووٹ یورپی پارلیمنٹ میں فرانس کے وقت کے مطابق دوپہر کے قریب (1000 جی ایم ٹی) اسٹراسبرگ میں کیا جائے گا، جسے انتہائی دائیں بازو کے قانون ساز، خاص طور پر رومانیہ کے رکنِ پارلیمان جیورجے پیپیریا نے پیش کیا ہے۔

پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے، فان ڈیر لائن نے اس تحریک کو ایک سازشی تھیوری سے بھرپور کوشش قرار دیا جس کا مقصد یورپ کو تقسیم کرنا ہے۔ انہوں نے اس کے حامیوں کو ”اینٹی ویکس“ اور روسی صدر پیوٹن کے حامی قرار دیا۔

انہوں نے قانون سازوں سے اپیل کی کہ وہ یورپی کمیشن پر اعتماد کی تجدید کریں، کیونکہ موجودہ عالمی حالات جیسے کہ روس-یوکرین جنگ اور امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں یورپ کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔

پیپیریا نے فان ڈیر لائن پر کووڈ ویکسین معاہدوں کے دوران فائزر کے سربراہ کو بھیجے گئے پیغامات کو منظرعام پر نہ لانے کا الزام لگایا، جسے انہوں نے شفافیت کی کمی قرار دیا۔ یہ معاملہ اس وقت مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فان ڈیر لائن کے اپنے مرکز اور بائیں بازو کے اتحادی بھی ان پر فیصلہ سازی کے غیر جمہوری اور مرکزیت پسند انداز کی شکایت کر رہے ہیں۔ سینٹرسٹ رہنما ویلری ہایر نے پارلیمان میں کمیشن کو ”جامد اور حد سے زیادہ مرکزیت پسند“ قرار دیا۔

پیپیریا نے یہ الزام بھی لگایا کہ کمیشن نے رومانیہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں مداخلت کی، جہاں یورپی حامی امیدوار نیکوسور ڈان نے یورپ مخالف قوم پرست جارج سیمیون کو شکست دی۔

عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ دو تہائی اکثریت درکار ہے جو موجودہ صورتحال میں ممکن نظر نہیں آتی، کیونکہ یورپی پیپلز پارٹی اور سوشلسٹ و ڈیموکریٹس جیسے بڑے گروپوں نے اسے مسترد کر دیا ہے، جب کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی پارٹی بھی فان ڈیر لائن کی حمایت کر رہی ہے۔

اس سب کے باوجود، یہ ووٹ یورپی سیاست میں داخلی اختلافات اور قیادت پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی نشاندہی ضرور کر رہا ہے۔