وفاقی حکومت نے جولائی 2024 میں سرکاری افسران کے لیے کمپنیوں یا اداروں کے بورڈز میں بطور رکن خدمات انجام دیتے ہوئے ایک ملین روپے سے زائد معاوضہ لینے پر عائد پابندی واپس لے لی ہے۔

فنانس ڈویژن (ریگولیشنز وِنگ) کی جانب سے جاری کردہ ایک آفس میمورنڈم کے مطابق، “کابینہ کے فیصلے مورخہ 22 جون 2025 (کیس نمبر 387/رول-19/2025/573) کی روشنی میں فنانس ڈویژن کے مراسلہ نمبر 2(1)R-4/2004-Pt مورخہ 10 جولائی 2024 اور اسی نمبر کی یادداشت مورخہ یکم اگست 2024 کو ابتداء ہی سے واپس لیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 10 جولائی 2024 کو فنانس ڈویژن نے ایک دفتر یادداشت جاری کی تھی جس میں کابینہ کے 12 جون 2024 کے فیصلے (فیصلہ نمبر 172/21/2024) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ سرکاری ملازمین جو کمپنیوں/اداروں کے بورڈز کے رکن کی حیثیت سے مقرر کیے گئے ہوں اور انہیں معاوضہ ملنے کا حق حاصل ہو، وہ مالی سال میں صرف ایک ملین روپے تک کا معاوضہ رکھ سکیں گے۔

اس سے زائد ملنے والی رقم متعلقہ افسر کو سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوگی اور اس کی تفصیلات فوری طور پر متعلقہ وزارت/ڈویژن کے انتظامی ونگ کو فراہم کرنا لازم ہوگا۔

بعد ازاں یکم اگست 2024 کو فنانس ڈویژن نے ایک اور آفس میمورنڈم جاری کیا تھا جس میں 10 جولائی 2024 کے مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا تھا کہ کابینہ کے فیصلے کے نفاذ کے حوالے سے بعض ابہام سامنے آئے ہیں، لہٰذا ہدایات کو دوبارہ دہرانا ضروری ہے کہ افسران صرف ایک ملین روپے تک کا بورڈ معاوضہ رکھ سکیں گے اور زائد رقم خزانے میں جمع کروانا لازمی ہوگا۔

تاہم، اب حکومت نے ان تمام ہدایات کو منسوخ کر دیا ہے، یعنی اب سرکاری افسران بورڈز کے رکن کی حیثیت سے ایک ملین روپے سے زائد معاوضہ بھی رکھ سکیں گے۔

فنانس ڈویژن کے ترجمان سے اس فیصلے پر ردعمل لینے کے لیے بزنس ریکارڈر نے پیغامات اور فون کالز کیں، مگر خبر فائل کیے جانے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025