وزیرِاعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام صنعتی پیداواری عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے تاکہ ٹیکس نادہندہ افراد اور اداروں کو ٹیکس نیٹ میں مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکے۔
یہ ہدایات وزیرِاعظم نے بدھ کو ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور دیگر اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔
وزیرِ اعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہبازشریف نے ہدایت دی ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم کو اشیاء کی تیاری اور ترسیل کے تمام مراحل میں شامل کیا جائے، تاکہ تمام صنعتی پیداوار کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے۔
وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت کی کہ ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کے دائرہ کار کو ریٹیل سیکٹر تک وسعت دی جائے۔
اجلاس کے دوران وزیرِاعظم کو ایف بی آر میں جاری اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم اب تک چینی، تمباکو اور کھاد کی صنعتوں میں مکمل طور پر نافذ کیا جا چکا ہے اور جلد ہی اسے سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں بھی مکمل طور پر نافذ کردیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کو ہدایت دی کہ کاروباری برادری اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے تمام رابطہ ذرائع کھلے رکھے جائیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مالی سال 2024-25 میں وفاقی ٹیکس آمدن میں 42 فیصد اضافے پر وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کی کاوشوں کو سراہا جو گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
یہ معلوم ہوا کہ مالی سال 2024-25 میں اصلاحات اور ٹیکس قوانین کے مؤثر نفاذ کے ذریعے گزشتہ سال کے مقابلے میں 865 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی گئی — جو کہ تاریخی طور پر8 گنا اضافہ ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں وفاقی ریونیو کا جی ڈی پی سے تناسب 11.3 فیصد رہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام ادارے نئے مالی سال میں آمدنی اور معاشی اہداف کے حصول کے لیے مکمل لگن کے ساتھ کام کریں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کے خوشحال مستقبل کے لیے معاشی اہداف کے حصول میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں ذاتی طور پر محصول کی وصولی اور معاشی اہداف کے حصول کے تمام مراحل کی نگرانی کررہا ہوں۔