پاکستان نے حالیہ سال میں سات سال کی کم ترین سالانہ مہنگائی کی شرح ریکارڈ کی ہے۔ مالی سال 25-2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 4.49 فیصد رہا، جو کہ مالی سال 18-2017 کے بعد سب سے کم ہے، اور اس سال کو تقریباً 20 بیسس پوائنٹس سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کاغذ پر یہ ایک کامیابی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں۔
مالی سال 2018 میں یہ شرح تین برس کے پر سکون عرصے کے بعد سامنے آئی تھی، جب مہنگائی کی اوسط شرح 4.25 فیصد سے کم رہی۔ اس بار ہم 4.49 فیصد کی سطح پر تین برس بعد پہنچے ہیں، جن میں مہنگائی کی اوسط تقریباً 22 فیصد رہی۔ تو جی ہاں، مہنگائی میں کمی ضرور ہوئی ہے۔ لیکن اگر یہی استحکام ہے، تو دعا ہے کہ یہ زیادہ دیر نہ ٹھہرے۔
اس کالم کے قارئین کے لیے یہ حیران کن نہیں ہوگا کہ اس نصابی مثال جیسی ”ڈس انفلیشن“ کا سب سے بڑا سبب کوئی مضبوط مانیٹری پالیسی یا مالی نظم و ضبط نہیں، بلکہ ملکی گندم کی قیمتوں میں ریاستی مداخلت سے پیدا شدہ زوال ہے، جو مسلسل دوسرے سیزن میں جاری ہے۔ ہمیں یہ دکھاوا نہیں کرنا چاہیے کہ سی پی آئی نے مارکیٹ کے فطری تقاضوں کے مطابق برتاؤ کیا ہے۔
ذرا دوبارہ 2018 کو یاد کریں۔ اس وقت صرف مہنگائی کی مجموعی شرح ہی کم نہیں تھی، بلکہ بنیادی مہنگائی — جو نان فوڈ نان انرجی انڈیکس سے ماپی جاتی ہے — بھی اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے ہدف یعنی 5 سے 7 فیصد کے درمیان لگاتار 42 مہینوں تک (نومبر 2014 سے مئی 2018 تک) رہی۔ وہ حقیقی اور پائیدار قیمتوں کا استحکام تھا۔
اب حالیہ سال پر نظر ڈالیں۔ شہری علاقوں میں جو نان فوڈ نان انرجی مہنگائی صرف جون میں پہلی بار 7 فیصد سے نیچے آئی ہے۔ دیہی جو نان فوڈ نان انرجی کی مہنگائی اب بھی ہدف سے اوپر ہے۔ اور کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگرچہ عام تاثر یہی ہے کہ دیہی آمدنیوں میں شدید کمی آئی ہے، پھر بھی دیہی بنیادی مہنگائی ہر ماہ 57 بیسس پوائنٹس سے زائد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ یہی وہ رفتار ہے جس پر سالانہ مہنگائی 7 فیصد کی حد عبور کر جاتی ہے۔ آسان الفاظ میں، دیہی بنیادی مہنگائی پہلے سے ہی ہدف سے زیادہ ہے۔ اور یہ کئی مہینوں سے ایسا ہی ہے۔
شہری اور دیہی بنیادی مہنگائی کے درمیان یہ مستقل فرق صرف ناقابل وضاحت نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر پیش گوئی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر دیہی مہنگائی مستقبل کی نشاندہی کر رہی ہے، تو شہری اور قومی سی پی آئی شرحیں بھی پیچھے پیچھے آسکتی ہیں۔
اسی لیے یہ بحث کہ مہنگائی میں کمی کا سہرا عالمی کموڈیٹی مارکیٹس کے سر ہے یا ملکی سیاسی فیصلوں کے، صرف ایک طرف کی کہانی ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے زیادہ اہم سوال یہ ہے: اگر مہنگائی میں کمی صرف چند بڑے اشیائے خور و نوش — گندم، ٹماٹر، پیاز، آلو — کی قیمتوں کے گرنے کی وجہ سے ہے، جبکہ بنیادی اشیاء جیسے صحت، تعلیم اور کپڑے اب بھی دو ہندسوں کی شرح سے مہنگے ہو رہے ہیں، تو کیا ہم واقعی کہہ سکتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے؟
یہ بھی نہ بھولیں کہ ریزرو منی (یعنی نوٹوں کی رسد) اب بھی دو ہندسی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لیکوئیڈیٹی (سرمائے کی فراہمی) کے اثرات شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں نمایاں ہیں۔ صرف ایک بیرونی جھٹکا — مثلاً تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ یا کوئی موسمیاتی واقعہ جو خوراک کی رسد کو متاثر کرے — سی پی آئی کو دوبارہ دو ہندسوں تک لے جانے کے لیے کافی ہو گا۔
اگر ایسا ہوا، تو یہ ایک سال کی بظاہر ملنے والی راحت ایک حقیقی تبدیلی کے بجائے محض ایک وقفہ محسوس ہوگی۔ اور یہ خاص طور پر کمزور دکھائی دے گی جب اسے ان چار برسوں کے مقابل رکھا جائے، جب مہنگائی کی شرح 5 فیصد سے بھی کم رہی اور عام پاکستانی کی حقیقی آمدن میں اضافہ ہوا۔