نیپرا نے ڈسکوز اور کے-الیکٹرک کیلئے نیا اوسط یکساں ٹیرف منظور کرلیا
- مالی سال 26-2025 کے لیے فی یونٹ اوسط ٹیرف 31.59 روپے مقرر
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے منگل کے روز مالی سال 26-2025 کے لیے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے-الیکٹرک (کے ای) کے لیے اوسط یکساں ٹیرف شیڈول (ایس او ٹی) کو اصولی طور پر 31.59 روپے فی یونٹ کی نئی شرح کے ساتھ منظور کر لیا، حالانکہ ڈسکوز کی کارکردگی پر سنگین تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔
نظرثانی شدہ نیا ٹیرف 32.73 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 31.59 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جس میں اوسطاً 1.14 روپے فی یونٹ کی کمی ہوئی ہے۔ یہ کمی حکومت کی جانب سے مالی سال 26-2025 کے لیے 250 ارب روپے کی ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) شامل کرنے کے بعد ممکن ہوئی۔
اس کے علاوہ، نیپرا نے مجموعی اوسط یکساں ٹیرف 35.50 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 34 روپے فی یونٹ کرنے کا اعلان بھی کیا، جو کہ 1.50 روپے فی یونٹ کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
یہ عوامی سماعت ایک عجلت میں بلائی گئی میٹنگ میں منعقد ہوئی جس میں نیپرا کے ممبر (ٹیکنیکل) رفیق احمد شیخ اور ممبر (کے پی کے) مقصود انور خان نے شرکت کی۔پاور ڈویژن کی نمائندگی ایڈیشنل سیکریٹری (پاور فنانس) محفوظ بھٹی نے کی جبکہ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے نوید قیصر نے ٹیرف ری بیسنگ کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں اور سوالات کے جوابات دیے۔ نیپرا کو دی گئی دستاویزات کے مطابق تمام صارفین کو اوسطاً 1.14 روپے فی یونٹ (زیادہ سے زیادہ 1.15 روپے) کا ریلیف ملے گا۔
تاہم پاور ڈویژن کے نمائندے نے تسلیم کرنے سے گریز کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے دی گئی 7.50 روپے فی یونٹ کی رعایت ختم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رعایت جون 2025 میں ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد ٹیرف میں 1.15 روپے فی یونٹ کی بنیادی کمی، 0.45 روپے فی یونٹ کی پی ٹی وی فیس کے خاتمے اور 0.90 روپے فی یونٹ کی بجلی ڈیوٹی کے خاتمے سے متبادل ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
نوید قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے 31.59 روپے فی یونٹ کا یکساں اوسط ٹیرف مقرر کیا ہے جبکہ نیپرا نے 34 روپے فی یونٹ کا تعین کیا ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ نیپرا حکومت کی جانب سے پیش کردہ نظرثانی شدہ ٹیرف کو منظور کرے تاکہ اس میں کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا سکے۔
سماعت کے دوران فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور کے-الیکٹرک کے نمائندوں نے متعدد اعتراضات اٹھائے۔ ایف پی سی سی آئی کے ریحان جاوید نے کہا کہ صنعتی ٹیرف کو صنعت کی مشاورت سے دوبارہ ڈیزائن کیا جائے کیونکہ موجودہ ٹیرف میکانزم ناقص ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیپرا حکومت کی جانب سے پیش کی گئی یکساں ٹیرف کی درخواست منظور نہ کرے۔
کے-الیکٹرک کے ڈائریکٹر فنانس ایاز جعفر نے مطالبہ کیا کہ نیپرا کے-الیکٹرک کے ٹیرف کو تازہ ترین تعین کے مطابق ایڈجسٹ کرے۔ پاور ڈویژن کے نمائندے نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے نیپرا کی کے-الیکٹرک سے متعلق ٹیرف کی تعیناتی کو چیلنج کر رکھا ہے اور کہا کہ حکومتی اور کے الیکٹرک کے درمیان ٹی ڈی ایس معاہدے کے تحت کے-الیکٹرک کو تازہ ترین تعین کی بنیاد پر دعویٰ دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔
نیپرا کے قانونی مشیر میاں ابراہیم نے وضاحت کی کہ پاور ڈویژن کو نیپرا کے ٹیرف فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
دوسری جانب عارف بلوانی نے چھٹی کے دن سماعت کے انعقاد پر تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام شفافیت اور عوامی شرکت کے خلاف ہے۔
سماعت کے دوران ایک بڑا موضوع یکم جولائی 2025 کے بعد کا ٹیرف اسٹرکچر رہا، خاص طور پر وزیر اعظم کے 7.50 روپے فی یونٹ ریلیف پیکیج کے خاتمے کے بعد کی صورتحال۔ صنعتی شعبے کے نمائندے عامر شیخ نے کہا کہ نئے ٹیرف میں محض 1.15 روپے فی یونٹ کی کمی ہوئی ہے، جب کہ وزیر اعظم کی 6 روپے فی یونٹ کی رعایت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اور مزید 1.55 روپے کی رعایت جولائی میں ختم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں صنعتوں پر عملی طور پر 5 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ پڑے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم فرنس آئل پر کاربن لیوی اور گیس لیوی سے حاصل شدہ فنڈز کو صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں ریلیف جاری رکھنے کے لیے استعمال کریں۔
کراچی چیمبر کے نمائندے تنویر بیری نے نیپرا کی سماعت میں شرکت کو بطور احتجاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک دن کا نوٹس دیا گیا، جب کہ کم از کم 7 دن کا وقت دیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف 1.15 روپے فی یونٹ کا ریلیف ناکافی ہے اور دوسری جانب حکومت نے 3.23 روپے فی یونٹ کا سرکلر ڈیٹ سرچارج عائد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ آئی پی پیز سے مذاکرات کے بعد آئندہ مالی سال میں صارفین کو بڑا ریلیف ملے گا لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا۔ نیپرا کو فکسڈ چارجز کم کرنے چاہئیں اور پیک اور آف پیک آورز کو ختم کرنا چاہیے تاکہ صنعت چوبیس گھنٹے ایک ہی نرخ پر چلائی جا سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹ میٹرنگ کے لیے 1 میگاواٹ کی حد ختم کی جائے تاکہ ڈسکوز سستی بجلی حاصل کر سکیں اور اوسط لاگت کم ہو، ساتھ ہی ساتھ نئی صنعتی کنیکشنز یا لوڈ بڑھانے کی درخواستوں کو 30 دن کے اندر نمٹایا جائے۔
نیپرا کے ممبر (ٹیکنیکل) نے ڈسکوز کی کارکردگی خاص طور پر میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور زائد بلنگ کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے انکوائریاں جاری ہیں اور سیپکو کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
پی آئی ٹی سی کے سی ای او ڈاکٹر کاشف نے بتایا کہ ”اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ“ ایپ کا مقصد ڈسکوز میں زائد بلنگ سے نجات دلانا ہے۔
شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے حوالے سے پاور ڈویژن کے نمائندے نے کہا کہ نیپرا اس مسئلے کو حل کرنے میں تعاون کرے کیونکہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے اخراجات باقی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025