امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ وہ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے ارب پتی ایلون مسک کو ملک بدر کرنے پر غور کر سکتے ہیں، خاص طور پر اُس کے بعد جب مسک نے ٹرمپ کے اہم مالیاتی منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ حکومت کی کارکردگی کے ادارے ( ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شیئنسی(ڈی اوجی ای)، جس کی سربراہی مئی کے آخر تک ایلون مسک کرتے رہے ہیں، ممکن ہے اب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی کو دی جانے والی سرکاری سبسڈیز کا جائزہ لے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پتا نہیں، ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایلون مسک کو ڈی پورٹ کرنے پر غور کریں گے۔
انہوں نے نیم مزاحیہ انداز میں مزید کہا کہ ممکن ہے ہمیں ڈی او جی ای کو ایلون پر چھوڑنا پڑے۔ آپ جانتے ہیں ڈی او جی ای کیا ہے؟ یہ وہ بلا ہے جو شاید واپس آکر ایلون کو نگل جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کو ممکنہ ملک بدری کی دھمکی دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسک ان کے مجوزہ ایک بڑے خوبصورت بل( ون بگ بیوٹی فل بل) پر تنقید اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ اس میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے لیے معاون اقدامات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی ای وی سبسڈی کھو رہے ہیں۔ وہ اس بات پر بہت ناراض ہیں لیکن میں آپ کو ابھی بتا سکتا ہوں، وہ اس سے کہیں زیادہ کھو سکتے ہیں۔ ایلون بہت کچھ کھو سکتے ہیں۔
پیر کی شب ٹرمپ نے اپنے سوشل نیٹ ورک ”ٹروتھ سوشل“ پر بھی اسی قسم کے ریمارکس دیے کہ اگر سبسڈیز نہ ہوں تو ایلون کو شاید اپنا کاروبار بند کر کے جنوبی افریقہ واپس جانا پڑے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک، جو اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کے سب سے بڑے مالی معاون تھے اور نئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں مسلسل ان کے ہمراہ دیکھے جاتے تھے۔
تاہم اس ماہ بل پر شدید اختلافات کے بعد دونوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ ایلون مسک نے حالیہ دنوں میں ریپبلکن جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ امریکہ کو الیکٹرک گاڑیوں اور صاف توانائی کی دوڑ میں عالمی قیادت سے پیچھے لے جا رہی ہے۔
ایلون مسک نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر بل منظور ہوا تو وہ ایک نئی سیاسی جماعت ”امریکہ پارٹی“ بنانے کی کوشش کریں گے۔