امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امریکہ، جو اسرائیل کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کرتا ہے، اس صورتِ حال کو برداشت نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو پر 2019 میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔ یہ مقدمہ 2020 میں شروع ہوا تھا اور تین مختلف فوجداری کیسز پر مشتمل ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر لکھا کہیہ سراسر پاگل پن ہے کہ جو کچھ بے قابو پراسیکیوٹرز بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ عدالتی کارروائی نیتن یاہو کی فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی صلاحیت میں رکاوٹ بنے گی۔

یہ چند دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کے حق میں دوسری پوسٹ تھی جس میں انہوں نے مقدمے کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ اس بار انہوں نے اسرائیل کے قانونی عمل کو امریکی امداد سے بھی جوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہریاستہائے متحدہ امریکا ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے — کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ — اسرائیل کی حفاظت اور اس کی حمایت میں۔ہم یہ سب مزید برداشت نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اس وقت حماس کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں دیں۔

جمعہ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگ بندی قریب ہے۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں موجود باقی یرغمالیوں کو کسی بھی ایسے معاہدے کے تحت رہا کرنے پر آمادہ ہے جو جنگ کے خاتمے پر منتج ہو، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ صرف اسی صورت ختم ہو سکتی ہے جب حماس کو غیر مسلح اور تحلیل کیا جائے۔

حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔

غزہ تنازع کے حل میں دلچسپی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ اسرائیل-ایران بارہ روزہ جنگ بندی کا آغاز رواں ہفتے کے اوائل میں ہوا۔