امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان جمعرات کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں انہوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان پائیدار امن کو فروغ دینے پر بات چیت کی۔
یہ اہم کیوں ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں اپنے اتحادی اسرائیل اور اس کے علاقائی حریف ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تاکہ اُس جنگ کو روکا جا سکے جو 13 جون کو اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جہاں انہوں نے ایران پر گفتگو کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کو دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر جانتا ہے۔
امریکہ میں ایران کے مفادات کی نمائندگی پاکستان کے سفارتخانے کا ایک شعبہ کرتا ہے کیونکہ تہران کے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
اہم اقتباسات
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
وزیر خارجہ روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرسکتا اور نہ ہی حاصل کرسکتا ہے۔
سیاق و سباق
واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع نے اس خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی ، یہ خطہ پہلے ہی اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز سے بے چینی کا شکار تھا۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے پیر کو قطر میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔
اسرائیل مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے بارے میں وسیع پیمانے پر یقین کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں اور اس کا ایران کے خلاف جنگ کا مقصد تہران کو اپنے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا بتایا گیا ہے۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے جب کہ اسرائیل اس کا رکن نہیں ہے۔
پاکستان نے ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی مذمت کی، حالانکہ رواں ماہ کے آغاز میں اس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا تھا کیونکہ انہوں نے گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ تنازع ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔