وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسرائیل-ایران تنازع میں امریکی شمولیت کے فیصلے کو مؤخر کرنے کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں نے گزشتہ سیشن کے فوائد کھودیے اور جمعہ کو تقریباً 2 ڈالر کی کمی کے ساتھ نیچے آگئیں تاہم اس کے باوجود قیمتیں مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کے راستے پر برقرار ہیں۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 1.89 ڈالر یا 2.4 فیصد کی کمی سے 76.96 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔

ہفتہ وار بنیاد پر ان میں 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ، جو جولائی کے لیے ہے اور جمعرات کو امریکی تعطیل کے باعث سیٹل نہیں ہوا اور جمعہ کو میعاد ختم ہورہی ہے 53 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے سے75.67 ڈالر پر پہنچ گیا۔

مزید مائع تصور کیا جانے والا اگست کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 0.2 فیصد یا 17 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 73.67 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

جمعرات کو قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب اسرائیل نے ایران میں جوہری اہداف پر بمباری کی اور ایران نے ایک اسرائیلی اسپتال کو نشانہ بنانے کے بعد میزائل اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل پر جوابی حملے کیے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک ہفتے سے جاری جنگ میں کسی بھی جانب سے پسپائی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ وائٹ ہاؤس کے اس بیان کے بعد کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ امریکہ اسرائیل-ایران تنازع میں شامل ہوگا یا نہیں، برینٹ فیوچرز نے گزشتہ سیشن کے کچھ فوائد کھودیے۔

دی پرائس فیوچرز گروپ کے تجزیہ کار فل فلین نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اُس وقت تیزی آئی جب امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشات نے اسرائیل اور ایران کے تنازع کو مزید بڑھنے کا اندیشہ پیدا کر دیا۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے اشارہ دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ابھی وقت باقی ہے۔

ایران تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے رکن ممالک میں تیسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے جو روزانہ تقریباً 33 لاکھ بیرل خام تیل نکالتا ہے۔

ایران کے جنوبی ساحل کے ساتھ واقع آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 1.8 کروڑ سے 2.1 کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات گزرتی ہیں، اور اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ جاری لڑائی ان تجارتی راستوں میں خلل ڈال سکتی ہے جس سے سپلائی کو بڑا دھچکا لگے گا۔

آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکومور نے کہا کہ دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن وہ حربہ ہے جسے ٹرمپ نے ماضی میں کئی اہم فیصلوں میں استعمال کیا ہے، اکثر اوقات یہ مہلت بغیر کسی ٹھوس کارروائی کے ختم ہوجاتی ہے جس کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں اور حالیہ اضافے کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔