ایران نے جمعرات کے روز اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے پر اسرائیل کی ”جنگی جارحیت“ کا ”شراکت دار“ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران پر جنگ شروع ہونے سے قبل تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔
بعد ازاں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی پر مذمت کا نشانہ بنایا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پوسٹ میں، جو عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کے حوالے سے کی گئی، ایکس پر کہا کہ آپ نے جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام سے خیانت کی، آپ نے اپنے ادارے کو کو اس ناجائز جارحانہ جنگ میں شریک بنا دیا ہے۔
بدھ کے روز فرانس 24 سے گفتگو کرتے ہوئے رافائل گروسی نے کہا تھا کہ ایران دنیا کا واحد ملک ہے جو اس وقت یورینیم کو عسکری سطح کے قریب افزودہ کر رہا ہے، لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایران براہِ راست ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔