دو امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں موجود کچھ طیارے اور بحری جہاز ایسے اڈوں سے منتقل کردیے ہیں جو ممکنہ ایرانی حملے کی زد میں آسکتے ہیں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو اس حوالے سے تذبذب میں ڈال رکھا ہے کہ آیا امریکہ ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر اسرائیل کی بمباری میں شامل ہوگا یا نہیں، جبکہ فضائی حملوں کے چھٹے روز ایران کے دارالحکومت سے شہریوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
علاوہ ازیں قطر میں امریکی سفارتخانے نے جمعرات کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس میں اس کے عملے کو عارضی طور پر العدید ایئر بیس تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔ یہ ایئربیس جو دوحہ کے باہر صحرا میں واقع ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سب سے بڑی فوجی تنصیب ہے۔
سفارتخانے نے قطر میں موجود امریکی عملے اور شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر غیرمعمولی احتیاط کے تحت اپنی حفاظتی تدابیر مزید سخت کریں۔
دو امریکی حکام جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے بتایا کہ طیاروں اور بحری جہازوں کی منتقلی امریکی افواج کے تحفظ کے منصوبے کا حصہ ہے، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ کتنی تنصیبات منتقل کی گئی اور انہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
ان میں سے ایک عہدیدار نے بتایا کہ العدید ایئر بیس پر موجود وہ طیارے جو محفوظ شیلٹرز میں نہیں تھے، انہیں وہاں سے منتقل کردیا گیا ہے جب کہ بحری جہازوں کو بحرین کی بندرگاہ سے ہٹا دیا گیا ہے جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ تعینات ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ یہ کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے۔ فورس کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔رائٹرز نے رواں ہفتے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کہ بڑی تعداد میں ٹینکر طیاروں کو یورپ منتقل کیا گیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں دیگر فوجی اثاثوں کی تعیناتی کی گئی ہے جن میں مزید جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔
انڈو پیسفک میں موجود ایک طیارہ بردار بحری جہاز بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہورہا ہے۔
اسرائیل نے جمعہ کو فضائی جنگ کا آغاز کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس کے تجزیے کے مطابق ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کی تردید کی ہے۔
اقوام متحدہ میں جنیوا میں تعینات ایرانی سفیر نے بدھ کو کہا کہ ایران نے واشنگٹن کو پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کی فوجی مہم میں براہِ راست شامل ہوا تو ایران سخت جواب دے گا۔