روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 50 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بات کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہولادیمیر پیوٹن نے ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی اور اس تنازع کے ممکنہ پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جو پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ناقابلِ پیش گوئی نتائج لا سکتا ہے۔

اوشاکوف کے مطابق، ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

اوشاکوف نے بتایا کہ امریکی مذاکرات کار ایرانی نمائندوں کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے تیار ہیں، جس میں عمان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ تاہم اتوار کو طے شدہ مذاکرات کا تازہ دور منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اوشاکوف کے مطابق، پیوٹن نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ روس نے موجودہ کشیدگی سے قبل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں باہمی قبولیت پر مبنی حل کے لیے ٹھوس تجاویز دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہروسی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے روس کا اصولی مؤقف اور دلچسپی بدستور برقرار ہے، اور جیسا کہ ولادیمیر پیوٹن نے کہا، ہم اسی مؤقف کی بنیاد پر اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے رپورٹ کیا کہ یوکرین کے حوالے سے پیوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس 22 جون کے بعد یوکرینی حکام سے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

کریملن کے مطابق، ٹرمپ نے روس-یوکرین تنازع کے ”جلد از جلد خاتمے“ میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔

اوشاکوف نے یہ بھی بتایا کہ دونوں صدور نے ”اپنے ذاتی تعلقات پر اطمینان“ کا اظہار کیا، جن کی بدولت وہ باہمی اور عالمی معاملات پر، خواہ وہ کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، مؤثر اور مثبت انداز میں بات کر پاتے ہیں۔

پیوٹن نے ٹرمپ کو ان کی 79ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی دی۔