اسرائیلی فائر فائٹنگ سروس کے مطابق ایرانی میزائل حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں ایک بلند عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

جاری کردہ بیان کے مطابق تل ابیب میں فائر فائٹنگ ٹیمیں کئی بڑے حادثات سے نمٹ رہی ہیں۔ فائر فائٹرز ایک بلند عمارت میں پھنسے افراد کو بچانے اور آگ بجھانے کے ساتھ ساتھ دو دیگر تباہ شدہ مقامات پر بھی امدادی کارروائیاں کررہے ہیں۔

مرکزی تل ابیب سے اے ایف پی کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت سے آگ اور دھواں بلند ہو رہا ہے جبکہ اس کی بنیاد پر دھماکے سے ایک بڑا شگاف پڑ چکا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ایران میں فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلے ڈرونز کا ایک بیڑہ روانہ کیا جس کے بعد دو مرحلوں میں میزائل داغے گئے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈفرین نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں مرحلوں میں مجموعی طور پر 100 سے کم میزائل داغے گئے جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ چند عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے ، بعض عمارتیں میزائلوں کو فضا میں روکنے کے دوران گرنے والے چھروں کی زد میں آئیں۔

اے ایف پی کے صحافی کے مطابق پہلے مرحلے میں میزائل داغے جانے کے فوراً بعد اسرائیل کے ساحلی شہر تل ابیب پر دھوئیں کے گہرے بادل چھاگئے۔

تل ابیب میں وزارت دفاع کے قریب واقع رہائشی عمارت کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

ایک رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ انتباہی پیغام موصول ہوتے ہی وہ عمارت کے زیرِ زمین پناہ گاہ کی طرف دوڑ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ چند منٹ بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، ہر چیز ہلنے لگی، دھواں اور گردوغبار ہر طرف پھیل گیا۔

اے ایف پی ٹی وی کی تصاویر میں تل ابیب کے مضافاتی علاقے رامت گان کی ایک سڑک دکھائی گئی، جو میزائل حملے سے متاثرہ عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے ملبے سے بھرچکی تھی۔

ریسکیو اہلکار ایک تباہ شدہ رہائشی عمارت سے گرے ہوئے کنکریٹ، لوہے کی سلاخوں اور لکڑی کے تختوں کے ملبے تلے دب کر تباہ ہونے والی درجن بھر گاڑیوں کو ہٹانے میں مصروف نظر آئے۔

اسرائیلی ریسکیو ایجنسی ماگن ڈیوڈ آدوم کے ترجمان نے نجی اسرائیلی ٹی وی چینل 12 پر بتایا کہ میزائل حملوں میں 21 افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔