مسابقتی کمیشن کی نیسلے اور پلاٹینم ایکویٹی کے مشترکہ منصوبے کی منظوری
- بعد ازاں فارورڈ ون اس کمپنی میں حصص حاصل کرے گا، جس کے نتیجے میں نیسلے کے ساتھ مشترکہ انتظامی اختیار قائم ہوجائے گا
پاکستان کے مسابقتی کمیشن (سی سی پی) نے نیسلے ایس اے اور پلاٹینم ایکویٹی کے زیرِ کنٹرول ادارے فارورڈ ون ایس اے آر ایل کے درمیان مجوزہ مشترکہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت ابتدائی مرحلے کے جائزے کے بعد دی گئی ہے۔
ہفتے کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق، اس معاہدے کا دائرہ کار متعدد ممالک میں نیسلے کے پانی اور مشروبات کے کاروبار پر محیط ہے، جس میں پاکستان میں بوتل بند پانی کا کاروبار بھی شامل ہے۔
مشترکہ منصوبے کے تحت نیسلے متعلقہ کاروبار ایک اندرونی تنظیمِ نو کے ذریعے لکسمبرگ میں قائم خصوصی مقصد کی کمپنی ڈبلیو پی بی جے وی کو ایس اے آر ایل کو منتقل کرے گا۔ بعد ازاں فارورڈ ون اس کمپنی میں حصص حاصل کرے گا، جس کے نتیجے میں نیسلے کے ساتھ مشترکہ انتظامی اختیار قائم ہوجائے گا۔
پاکستان میں نیسلے پاکستان لمیٹڈ کا پانی کا کاروبار ایک اسکیم آف ارینجمنٹ کے ذریعے نئی قائم کردہ ذیلی کمپنی کو بطور جاری کاروبار منتقل کیا جائے گا۔ بعد ازاں اس کے حصص نیسلے کے ایک بالائی سطح کے ادارے کو منتقل ہوں گے، جس سے یہ کاروبار مشترکہ منصوبے کے ڈھانچے کا حصہ بن جائے گا۔
بیان کے مطابق فارورڈ ون کو خصوصی طور پر اسی معاہدے کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس کی کوئی آزادانہ کاروباری سرگرمیاں نہیں ہیں۔ پلاٹینم ایکویٹی ایک عالمی سرمایہ کاری فرم ہے، جس کے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری ادارے شامل ہیں۔ پاکستان میں نیسلے کی سرگرمیوں میں نیسلے پیور لائف برانڈ کے تحت بوتل بند پانی کی فروخت بھی شامل ہے۔
مسابقتی کمیشن نے متعلقہ مصنوعات کی مارکیٹ کا تعین ’بوتل بند پانی کی مصنوعات‘ جبکہ جغرافیائی مارکیٹ کا تعین پاکستان کے طور پر کیا۔ کمیشن کے مطابق پاکستان میں فارورڈ ون یا پلاٹینم ایکویٹی کے زیرِ کنٹرول اداروں اور مجوزہ مشترکہ منصوبے کے کاروبار کے درمیان افقی یا عمودی نوعیت کا کوئی کاروباری تداخل موجود نہیں۔ چنانچہ اس لین دین سے مارکیٹ میں موجودہ حصص کی تقسیم تبدیل نہیں ہوگی۔
کمیشن نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ میں متعدد مستحکم اور تصدیق شدہ مینوفیکچررز کے علاوہ متبادل معیاری برانڈز بھی موجود ہیں، جو مختلف برانڈز کے درمیان مسابقت اور صارفین کو اپنی پسند کی مصنوعات منتخب کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، اس معاہدے سے نئے کاروباری اداروں کے مارکیٹ میں داخلے کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی اور نہ ہی موجودہ حریف کمپنیوں کی مؤثر مسابقت کی صلاحیت محدود ہوگی۔
مسابقتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس مشترکہ منصوبے سے مارکیٹ میں مسابقت میں نمایاں کمی واقع نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی غالب کاروباری حیثیت کا قیام یا استحکام عمل میں آئے گا۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے مسابقتی ایکٹ 2010 کی دفعہ 31(1)(d)(i) کے تحت اس معاہدے کی منظوری دے دی۔


Comments