میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل بچوں سے متعلق فحش مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار
- امریکی حکام کے مطابق 82 سالہ تھامس مارکل پر کم عمر لڑکیوں کی تصاویر سمیت بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کا الزام ہے
امریکی محکمہ انصاف نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ برطانیہ کے شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل کو بچوں سے متعلق فحش مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
فلوریڈا کے شہر لیک لینڈ سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ تھامس مارکل پر بچوں سے متعلق فحش مواد رکھنے کی ایک فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ امریکی اٹارنی آفس برائے وسطی ضلع کیلیفورنیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ جمعے کے روز ٹمپا کی عدالت میں پیش ہوں گے۔
امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بل ایسیلی نے کہا ہے کہ ’’مسٹر مارکل پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کا الزام ہے، جس میں ایسی تصاویر بھی شامل ہیں جن میں وہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ الزامات نہایت سنگین ہیں اور ہم وفاقی قانون کے تحت ان کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کریں گے۔‘‘
محکمہ انصاف کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے تھامس مارکل کو گرفتار کیا ہے۔
میگھن مارکل کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
گرفتاری کی خبر سب سے پہلے دینے والے اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق، تھامس مارکل سینئر کو لیک لینڈ میں ان کی رہائشی کمیونٹی سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اخبار نے جمعے کے روز نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ میکسیکو اور فلپائن میں واقع ایک اسٹوریج یونٹ سے بھی ایسا مواد ملا تھا۔
فلپائن کے حکام نے، جہاں تھامس مارکل سینئر ماضی میں کچھ عرصہ مقیم رہے تھے، گزشتہ ماہ ان الزامات کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ برطانوی پولیس نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ ان کے خلاف الزامات بیرون ملک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجے گی، کیونکہ یہ بات سامنے آئی تھی کہ الزامات موصول ہونے کے وقت انہیں دیگر متعلقہ حکام تک نہیں پہنچایا گیا تھا۔
تھامس مارکل ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ انہوں نے ’ڈیلی میل‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور ’’شرمناک جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔
امریکی شہری میگھن مارکل نے 2018ء میں شاہ چارلس کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری سے شادی کی تھی۔ وہ ان الزامات پر ’’شدید ذہنی اذیت‘‘ کا اظہار کرچکی ہیں۔


Comments