BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)
دنیا

شام حوثی حملوں کے دوران سعودی عرب کو فوجی مشاورت اور تربیت فراہم کرنے لگا، ذرائع

  • نئے دفاعی معاہدے کے تحت شام حوثی حملوں میں شدت کے تناظر میں سعودی عرب کو اہم فوجی مہارت اور تربیت فراہم کر رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

شام سعودی عرب کو فوجی مشاورت اور تربیت فراہم کر رہا ہے جبکہ مملکت کو یمن کے حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ شام کے دو فوجی ذرائع اور ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق، دمشق نے محدود تعداد میں فوجی اہلکار بھی سعودی عرب بھیجے ہیں۔

جولائی سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے باعث یمن کی جنگ دوبارہ بھڑک اٹھی، جس کے بعد ریاض نے متعدد اتحادیوں سے دفاعی اور جارحانہ دونوں نوعیت کی معاونت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ شام سے فوجی مشیر اور تربیتی ٹیمیں سعودی عرب جا رہی ہیں۔ شام میں برسوں کی جنگ کے دوران لڑائی کا وسیع تجربہ حاصل کرنے والے یہ اہلکار مملکت کے اندر سعودی اور یمنی فوجی دستوں کی تربیت میں مدد دیں گے، تاکہ ان کی جنگی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔

معاملے سے براہ راست آگاہ شام کے دو فوجی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران شام سے درجنوں فوجی اہلکار سعودی عرب بھیجے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، ان اہلکاروں کی ذمہ داریوں میں فوجی مشاورت اور تربیت شامل ہے، تاہم انہیں حاصل مینڈیٹ اس سے زیادہ وسیع بھی ہو سکتا ہے۔

تبصرے کے لیے رابطہ کیے جانے پر شام کے ایک سینئر سفارت کار نے کہا کہ ’’اس مرحلے پر فوجی تعیناتی سے متعلق کسی بھی قسم کا دعویٰ قبل از وقت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ شام کی توجہ بدستور داخلی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ اور تعمیر نو پر مرکوز ہے۔

سفارت کار نے مزید کہا کہ بدھ کے روز طے پانے والے شام اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کے معاہدے میں ’’خصوصی طور پر مشاورتی معاونت، تربیت اور مہارت کے تبادلے کو شامل کیا گیا ہے۔‘‘

سعودی عرب کے ایک سینئر عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ شام کے ساتھ مہارت کا تبادلہ جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد ’’شام کی مسلح افواج کی تنظیمِ نو ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے شامی شراکت دار ملیشیاؤں کے خلاف لڑائی کا اپنا تجربہ ہمارے ساتھ بانٹ کر ہماری مدد نہیں کرتے۔‘‘

سعودی عہدیدار نے تبصرے کی درخواست کے جواب میں مزید بتایا کہ سلامتی اور دفاع، دونوں شعبوں میں مشترکہ تربیتی مشقیں جاری ہیں جبکہ مزید مشقوں کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔

شام اور سعودی عرب نے بدھ کے روز دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ شامی صدر احمد الشرع کے دورۂ ریاض کے موقع پر طے پایا، جہاں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ان کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے یہ دوسری ملاقات تھی۔

معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن نے دمشق پر زور دیا ہے کہ وہ محتاط انداز میں آگے بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کی جنگ میں مدد کے لیے شام کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی تعیناتی سے ملک کے اس خطے میں جاری وسیع تر جنگ میں الجھنے کا خطرہ ہے، جس سے شام اب تک گریز کرتا آیا ہے۔

سعودی حکومت اور شام کی وزارتِ دفاع کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ، یمن کی حکومت اور حوثیوں نے بھی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

مکہ معاہدہ

2024 میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شام سعودی عرب اور امریکا کا قریبی اتحادی بن کر ابھرا ہے۔ بشار الاسد ایران کے اتحادی تھے جبکہ ان کے خلاف بغاوت کرنے والے گروہوں کی قیادت احمد الشرع کر رہے تھے۔

شام کی ازسرنو تشکیل دی گئی فوج میں سابق باغی جنگجو شامل ہیں، جنہوں نے برسوں تک بشار الاسد کے خلاف لڑائی لڑی۔ ان کے علاوہ وہ حوثی جنگجو بھی شامل ہیں جو باغیوں کے خلاف اسد حکومت کی مدد کے لیے آئے تھے۔

دمشق کے قریبی اتحادی ترکیہ نے جمعرات کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست میں مکہ مکرمہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی، جس سے انقرہ کے لیے ریاض کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

شام کے سینئر سفارت کار نے کہا کہ سعودی عرب اور شام کے درمیان ’’معاہدے کو مستقبل میں وسیع تر دفاعی تعاون تک وسعت دی جا سکتی ہے، جس میں مکہ معاہدے جیسی شقیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔‘‘

شام کے سینئر سفارت کار کے مطابق، بدھ کے روز طے پانے والا معاہدہ ’’فوجی تعاون کا ایک وسیع تر فریم ورک‘‘ ہے۔ یہ معاہدہ متعدد دیگر شعبوں، بشمول مالیات اور زراعت سے متعلق طے پانے والے کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں سے ایک ہے۔

سعودی فنڈ برائے ترقی نے بدھ کے روز شام کی وزارتِ خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں پر دستخط کیے، جن کے تحت شام کے ترقیاتی اور عوامی خدمات کے شعبوں کی معاونت کے لیے 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے رعایتی ترقیاتی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

یہ قرضے ایسے ملک کے لیے اہم سہارا ہیں جس کی معیشت کی بحالی کی کوششیں مشکلات سے دوچار ہیں اور جسے تعمیرِ نو کے لیے کئی سو ارب ڈالر درکار ہیں۔

یمن کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بعض علاقوں میں یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں حکومت نے معمولی پیش رفت کی ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ سعودی عرب نے اپنے یمنی اتحادیوں کی حمایت میں فضائی حملے کیے ہیں۔

رائٹرز نے اکتوبر میں رپورٹ کیا تھا کہ شام سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ زیرِ غور تجاویز میں مملکت کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دفاعی مدد فراہم کرنا یا حوثیوں کے خلاف یمنی فوجیوں کی معاونت کے لیے جارحانہ کارروائیوں کی غرض سے فوجی دستے تعینات کرنا شامل تھا۔

شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں حال ہی میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدے میں شام کی شمولیت کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا، ’’شام خلیج عرب کے امن و سلامتی کو علاقائی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔ شام چیلنجز اور سرحد پار سرگرم ملیشیاؤں کے مقابلے میں خلیجی ممالک کے عوام اور حکومتوں کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘

Comments

200 حروف