بیجوں سے مالیاتی نظام تک: پاکستان کے معاشی مستقبل کی تشکیل کون کر رہا ہے؟
- حقیقی معاشی قیادت کا تقاضا ہے کہ ایسی شراکت داریاں طے کی جائیں جو پاکستان کو زیادہ باصلاحیت، مسابقت کے قابل اور خود انحصار بنائیں، تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے
بین الاقوامی شراکت داریوں سے حقیقی فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب مقامی اداروں کی صلاحیت مضبوط ہو، ٹیکنالوجی کی منتقلی یقینی بنائی جائے اور قومی مفادات و مالیاتی خودمختاری کا تحفظ کیا جائے
پاکستان کو عالمی سطح پر ایسے شراکت داروں کی کبھی کمی نہیں رہی جو معاونت، مہارت اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم، یہ بات اب بھی غیر یقینی ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ایسی ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کی ہے یا نہیں جس کے ذریعے ان شراکت داریوں کے لیے ایسی شرائط طے کی جا سکیں جو ملک کے طویل مدتی معاشی مفادات کا مناسب تحفظ کریں۔
یہ سوال وزیراعظم شہباز شریف کی 23 ستمبر کو نیویارک میں بل گیٹس سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں جانب سے زراعت، بہتر بیجوں، مویشیوں کی جینیاتی بہتری، ڈیجیٹل جدت اور ترقیاتی ترجیحات کے دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ترقیاتی تعاون کے پہلے سے قائم تعلقات کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کی عکاس تھی۔
تاہم، اس سے ایک بڑا پالیسی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: بیرون ملک سے حل تلاش کرنے سے پہلے پاکستان اپنی موجودہ صلاحیتوں کا کتنی باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے؟
بین الاقوامی تعاون نہ تو کوئی غیر معمولی بات ہے اور نہ ہی اسے ناپسندیدہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاری، تکنیکی ترقی اور عالمی مہارت تک رسائی کی ضرورت ہے۔ ملک کی زرعی پیداوار اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے، جبکہ معیشت کے بڑے حصے میں سرگرمیاں بدستور رسمی مالیاتی نظام سے باہر انجام دی جا رہی ہیں۔ تاہم، ایسی شراکت داریوں سے حاصل ہونے والے مواقع جتنے اہم ہیں، ان کے لیے طے کی جانے والی شرائط بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں۔ زراعت اس حوالے سے ایک قابلِ غور مثال فراہم کرتی ہے۔
پاکستان ایسا ملک نہیں جہاں زرعی سائنس دانوں، تحقیقی اداروں یا بہتر فصلوں کی اقسام تیار کرنے کے تجربے کا فقدان ہو۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق اس کے زرعی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے اداروں نے اب تک فصلوں کی 150 اقسام تیار کی ہیں، جن میں کپاس کی 39، گندم کی 28 اور چاول کی 23 اقسام شامل ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار فوڈ اینڈ ایگریکلچر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جیسے ادارے کئی دہائیوں سے فصلوں کی بہتری، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یہ کسی ایسے ملک کی معمولی کامیابیاں نہیں جو اکثر اپنی ٹیکنالوجی کی ضروریات کے لیے بیرونی معاونت پر انحصار کرنے کا تاثر دیتا ہے۔
تاہم، سائنسی صلاحیت کی موجودگی مسلسل زرعی مسابقت میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ کاشت کاروں کو معیاری بیجوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، زرعی توسیعی خدمات ناکافی ہیں اور مقامی سطح پر تیار کردہ تحقیقی نتائج کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرانے میں اکثر مایوس کن کارکردگی سامنے آئی ہے۔ تحقیقی اداروں، بیج تیار کرنے والوں اور زرعی منڈیوں کے درمیان کمزور رابطے نے بھی پیش رفت محدود کر دی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں حکومتی پالیسی کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
بیجوں کی تیاری میں مزید بیرونی معاونت حاصل کرنے سے پہلے کیا پاکستان کو یہ تعین نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے موجودہ ادارے تحقیقی کامیابیوں کو وسیع پیمانے پر تجارتی نتائج میں تبدیل کرنے میں کیوں ناکام رہے ہیں؟ کیا ان اداروں کو مناسب مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں؟ کیا انہیں جدید تجربہ گاہوں، بیجوں کی افزائش کی سہولتوں اور تجارتی شراکت داریوں تک رسائی حاصل ہے؟ کیا ان کی کامیابیوں کا آزادانہ جائزہ کاشت کاروں کی حقیقی ضروریات کی بنیاد پر لیا گیا ہے؟
ان سوالات کے جوابات سے یہ بات سامنے آ سکتی ہے کہ پاکستان کو اضافی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ بہتر عمل درآمد اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔
زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے بہتر بیج ناگزیر ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی پانی کی دستیابی، فصلوں کی پیداوار اور زرعی آمدن پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ بین الاقوامی تعاون سے تحقیق، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے قیمتی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، بیجوں کی تیاری کے عمل میں دانشورانہ ملکیت، لائسنس کے انتظامات، افزائش کے لیے استعمال ہونے والے جینیاتی مواد تک رسائی اور زرعی مداخل کی طویل مدتی قابلِ برداشت قیمت جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔
لہٰذا، مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں پاکستانی محققین کی مقامی حالات سے مطابقت رکھنے والی اقسام تیار کرنے کی صلاحیت کا تحفظ ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کاشت کاروں کو غیر ضروری طور پر سخت لائسنسنگ شرائط یا بار بار ادا کیے جانے والے اخراجات کے بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مقصد بیرونی فراہم کنندگان پر انحصار بڑھانا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیق، ملک کے اندر بیجوں کی افزائش اور تجارتی صلاحیت کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔
مالیاتی شعبہ بھی اس بحث کا ایک اتنا ہی اہم، اگرچہ نسبتاً کم نمایاں پہلو پیش کرتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کو پہلے ہی بین الاقوامی تکنیکی اور مالی معاونت سے فائدہ پہنچا ہے۔ فوری ادائیگیوں کا نظام ’راست‘ مالیاتی لین دین کو جدید بنانے، کارکردگی بہتر کرنے اور بینکاری خدمات تک رسائی بڑھانے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
کارانداز پاکستان کے ذریعے گیٹس فاؤنڈیشن نے مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت فراہم کی ہے۔ یہ تعلق ادائیگیوں کے ڈیجیٹل استعمال سے آگے بڑھ کر حکومتی مالیاتی انتظام، سماجی تحفظ اور وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
مارچ 2024ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس انتظامیہ کو ڈیجیٹل بنانے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کارانداز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ دسمبر 2024ء میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے منتخب اضلاع میں راست کے ذریعے مالی معاونت کی ادائیگیوں اور مالیاتی خواندگی کے فروغ کے لیے کارانداز کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔
فاؤنڈیشن کے شائع کردہ گرانٹس کے ریکارڈ سے بھی اس کے مسلسل تعاون کے حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔ دسمبر 2025ء میں کارانداز کے لیے تقریباً 1 کروڑ 37 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت راست کے انتظامی نظام کو مضبوط بنانے، اس کے وسیع تر استعمال اور خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ساتھ ادائیگیوں کے رابطے بہتر بنانے کے لیے مختص کی گئی۔ مئی 2026ء میں مزید 30 لاکھ ڈالر کی معاونت ڈیجیٹل حکومتی نظام اور عوامی مالیاتی انتظام میں بہتری کے لیے فراہم کی گئی۔
یہ بڑے ترقیاتی اقدامات ہیں جن سے اہم معاشی فوائد حاصل ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ تیز تر ادائیگیاں، فلاحی رقوم کی زیادہ شفاف تقسیم، محصولات کی مؤثر وصولی اور سرحد پار لین دین کی کم لاگت پاکستان کی معاشی جدید کاری میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم، جیسے جیسے مالیاتی نظام تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہے ہیں، ایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے: بالآخر ملک کی مالیاتی سرگرمیوں کے انحصار کے لیے استعمال ہونے والے تکنیکی ڈھانچے کا تعین کون کرتا ہے؟
آج مالیاتی خودمختاری کا تعلق صرف بینکوں کی ملکیت اور کرنسی کی ضابطہ کاری تک محدود نہیں رہا۔ اس میں ادائیگیوں کے نیٹ ورکس، ڈیجیٹل شناخت، معلومات کے تبادلے کے انتظامات، سافٹ ویئر سسٹمز اور شہریوں، کاروباری اداروں اور حکومتی اداروں کو آپس میں منسلک کرنے والے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
کوئی ملک اپنے مالیاتی بنیادی ڈھانچے کی باضابطہ ملکیت برقرار رکھنے کے باوجود بیرونی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، خصوصی ٹھیکے داروں یا ملکیتی سافٹ ویئر سسٹمز پر عملی طور پر انحصار کرنے لگ سکتا ہے۔ اس امکان کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے کسی موجودہ انتظام نے اس کی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ ایسے انحصار پیدا ہونے سے پہلے ادارہ جاتی حفاظتی اقدامات کیوں ضروری ہیں۔
بیرونی معاونت سے تیار کیے جانے والے سافٹ ویئر کی ملکیت کس کے پاس ہو گی؟ حساس مالیاتی معلومات کہاں محفوظ کی جائیں گی؟ ان معلومات تک رسائی کس کے کنٹرول میں ہو گی؟ کیا بین الاقوامی مالی معاونت یا تکنیکی تعاون ختم ہونے کے بعد پاکستانی ادارے خود ان نظاموں کی دیکھ بھال، آڈٹ اور انہیں جدید بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے؟
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ حکام ضابطہ کاری کے معیارات، ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے اور ملکی مالیاتی نظام کو متاثر کرنے والے فیصلوں پر مکمل اختیار برقرار رکھیں گے یا نہیں۔
ان سوالات کو ڈیجیٹلائزیشن کی مخالفت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے برعکس، جدید مالیاتی نظام کو مضبوط انتظامی نگرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کا بنیادی تکنیکی ڈھانچہ مسلسل پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان کو عالمی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، تاہم ہر معاہدے میں ڈیٹا کا تحفظ، سائبر سیکیورٹی، خریداری کے عمل میں شفافیت اور عملی خودمختاری کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔
وسیع تر تشویش اس طریقہ کار سے متعلق ہے جس کے تحت حکومت تزویراتی شراکت داریاں قائم کرتی ہے۔
پاکستان میں سرکاری جامعات، زرعی تحقیقی مراکز، مالیاتی ضابطہ کار ادارے، سافٹ ویئر کمپنیاں اور تجربہ کار ماہرین موجود ہیں جو قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی محدود صلاحیتیں ایک حقیقت ہیں، لیکن انہیں خودبخود بیرونی متبادل تلاش کرنے کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔
زیادہ منظم پالیسی کا آغاز ملکی صلاحیتوں کے آزادانہ جائزے سے ہونا چاہیے۔ جہاں مقامی مہارت موجود ہو، وہاں اسے مضبوط بنا کر بین الاقوامی منصوبوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ جہاں تکنیکی خلا موجود ہو، وہاں بیرونی تعاون کے لیے واضح اہداف کے تحت مذاکرات کیے جانے چاہئیں، جن میں علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، پیشہ ورانہ تربیت، مقامی شمولیت اور طویل مدتی پائیداری شامل ہوں۔
حکومت کو گرانٹس، تجارتی سرمایہ کاری، تکنیکی معاونت اور ایسے معاہدوں کے درمیان بھی فرق کرنا چاہیے جو مستقبل میں مسلسل مالی ذمہ داریاں پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے عوامی جواب دہی اور ادارہ جاتی خودمختاری پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پارلیمانی نگرانی، شفاف خریداری اور آزادانہ جائزے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جب منصوبوں میں تزویراتی بنیادی ڈھانچہ یا اہم عوامی ذمہ داریاں شامل ہوں تو یہ حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر کامیابی کا پیمانہ اعلانات کے بجائے عملی نتائج ہونے چاہئیں۔ کتنے کاشت کاروں کو کم قیمت پر بہتر کارکردگی کے حامل بیج دستیاب ہوتے ہیں؟ زرعی پیداوار میں کتنی بہتری آتی ہے؟ ڈیجیٹل لین دین سے اخراجات میں کتنی کمی ہوتی ہے؟ پہلے مالیاتی خدمات سے محروم کتنے شہریوں کو بامعنی رسائی حاصل ہوتی ہے؟ اور بین الاقوامی معاونت ختم ہونے کے بعد پاکستانی اداروں کے پاس کتنی اضافی صلاحیت باقی رہ جاتی ہے؟
یہ پیش رفت جانچنے کے کہیں زیادہ مفید پیمانے ہیں، بہ نسبت اس کے کہ کتنے معاہدوں پر دستخط ہوئے یا سرکاری ملاقاتوں میں کتنے نمایاں بین الاقوامی شراکت دار شریک ہوئے۔
پاکستان کی مسلسل معاشی مشکلات کی وجہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری یا جدید ٹیکنالوجی کی کمی نہیں۔ ان مشکلات میں پالیسیوں کے تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی، عمل درآمد اور جواب دہی کی کمزوریاں بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی شراکت داریاں ان کمزوریوں پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن وہ حکومت کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
ملک کو بین الاقوامی تعاون اور قومی خودانحصاری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں پہلا دوسرے کو مضبوط بنائے۔
خواہ معاملہ زرعی بیجوں کا ہو یا مالیاتی نظام کا، اصول ایک ہی رہنا چاہیے: پاکستان کو شراکت داریوں میں یہ واضح ادراک رکھتے ہوئے داخل ہونا چاہیے کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے، اس کے پاس پہلے سے کیا صلاحیتیں موجود ہیں، وہ کن معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور کن امور کا اختیار قومی کنٹرول میں رہنا ضروری ہے۔
معاشی قیادت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کوئی حکومت کتنے بین الاقوامی شراکت داروں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان شراکت داریوں کے نتیجے میں ملک پہلے کے مقابلے میں کتنا زیادہ باصلاحیت، مسابقتی اور کم انحصار کرنے والا بن کر ابھرتا ہے۔


Comments