BR100 Increased By (1.25%)
BR30 Increased By (1.64%)
KSE100 Increased By (1.14%)
KSE30 Increased By (1.16%)
BAFL 57.46 Decreased By ▼ -0.66 (-1.14%)
BIPL 23.31 Decreased By ▼ -0.07 (-0.3%)
BOP 28.84 Increased By ▲ 0.75 (2.67%)
CNERGY 11.87 Increased By ▲ 0.13 (1.11%)
DFML 15.11 Increased By ▲ 0.05 (0.33%)
DGKC 190.00 Increased By ▲ 4.97 (2.69%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -0.79 (-0.85%)
FCCL 55.98 Increased By ▲ 1.52 (2.79%)
FFL 12.98 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 17.98 Increased By ▲ 0.28 (1.58%)
HBL 291.00 Increased By ▲ 4.84 (1.69%)
HUBC 203.28 Increased By ▲ 6.04 (3.06%)
HUMNL 8.65 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
KEL 5.78 Increased By ▲ 0.15 (2.66%)
LOTCHEM 23.96 Increased By ▲ 0.13 (0.55%)
MLCF 94.86 Increased By ▲ 1.88 (2.02%)
OGDC 307.19 Increased By ▲ 3.56 (1.17%)
PAEL 32.62 Increased By ▲ 0.71 (2.23%)
PIBTL 13.06 Increased By ▲ 0.32 (2.51%)
PIOC 245.00 Increased By ▲ 4.59 (1.91%)
PPL 215.30 Increased By ▲ 2.39 (1.12%)
PRL 85.19 Increased By ▲ 0.85 (1.01%)
SNGP 91.70 Increased By ▲ 1.67 (1.85%)
SSGC 23.12 Increased By ▲ 0.29 (1.27%)
TELE 6.62 Increased By ▲ 0.12 (1.85%)
TPLP 13.05 Increased By ▲ 1.06 (8.84%)
TRG 52.35 Increased By ▲ 0.88 (1.71%)
UNITY 7.71 Increased By ▲ 0.13 (1.72%)
WTL 0.95 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

سرکس اربوں کی سرمایہ کاری کیلئے موزوں جگہ نہیں

  • پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ریفائنریز پر منتقل کرنے کا تازہ ترین اقدام محض قیمتوں کے تعین میں ایک اور مشکوک ردوبدل نہیں ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی حکومت بظاہر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کا ایک اور طریقہ ڈھونڈ چکی ہے: پہلے کسی صنعت کو اپنی تنصیبات کی بہتری پر اربوں روپے خرچ کرنے کی ترغیب دیں، پھر قواعد و ضوابط اس طرح تبدیل کردیں کہ ان تنصیبات کو چلانا ہی خسارے کا سودا بن جائے۔ اور اس کے بعد متاثرہ فریق کا شکریہ ادا کرنے کی جسارت بھی کریں، حالانکہ حقیقت میں اسے اندھیرے میں رکھ کر زبردست دھچکا پہنچایا گیا ہو۔

پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ریفائنریز پر منتقل کرنے کا تازہ ترین اقدام محض قیمتوں کے تعین میں ایک اور مشکوک ردوبدل نہیں ہے۔ یہ اس بات کا نقصان دہ اشارہ ہے کہ اسلام آباد سرمایہ کاری، خطرات اور معاہدے کی پاسداری کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں دستخط کیے گئے ریفائنری معاہدوں کو ملک کے سرمایہ کاری کے منظرنامے میں ایک اہم سنگ میل قرار دینے کے لیے خاصا سیاسی سرمایہ خرچ کیا تھا، لیکن اب اس نے اس بات کا غیر معمولی مظاہرہ کردیا ہے کہ سرمایہ کار ان یقین دہانیوں کو سنجیدگی سے لینے سے پہلے کیوں ہچکچاہٹ محسوس کرسکتے ہیں۔

اعداد و شمار خاصے تشویش ناک ہیں۔ پیٹرول پر ریفائننگ مارجن پہلے ہی منفی علاقے میں جاچکا ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں سے پیٹرول پر خسارہ مزید بڑھ کر اس سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے جو فرنس آئل کے خسارے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو ریفائنریوں کی مجموعی پیداوار کا تقریباً دو تہائی حصہ خسارے کا باعث بن سکتا ہے۔ بظاہر حکومت کی صنعتی پالیسی کا تصور یہ ہے کہ پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے، لیکن ساتھ ہی ان تنصیبات کو چلانے کے معاشی جواز کو بھی کمزور کردیا جائے۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ریفائنری معاہدوں کا مقصد کیا تھا؟ کیا ان کا مقصد نئی سرمایہ کاری لانا، پلانٹس کو جدید بنانا، مصنوعات کی پیداوار بہتر بنانا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا تھا؟ یا پھر مقصد صرف سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کرنا تھا تاکہ بعد میں انہیں ریاستی امور چلانے کے مالی اخراجات کا بوجھ ڈالنے کے لیے ایک موزوں جگہ کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ اگر مقصد دوسرا والا تھا تو حکومت اپنی کارکردگی پر داد کی مستحق ہے۔ اس نے سرمایہ کاری کے اعلان کو ایک انتباہی مثال میں تبدیل کردیا، وہ بھی اس سے پہلے کہ معاہدوں کی سیاہی خشک ہوتی۔

اس فیصلے کا وقت اسے خاص طور پر ناقابلِ دفاع بناتا ہے۔ ریفائننگ ایسا کاروبار نہیں جس میں سرمایہ کاروں کو آمدنی کے حوالے سے قابلِ پیش گوئی حالات کی سہولت حاصل ہو۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں اور خام تیل کی قیمتوں کے درمیان فرق (پروڈکٹ کریکس) بدلتا رہتا ہے، ذخائر کی مالیت کبھی ایک سہ ماہی میں منافع دیتی ہے تو اگلی سہ ماہی میں نقصان کا باعث بن جاتی ہے، جبکہ عالمی طلب اور رسد کی صورت حال انتہائی تیزی سے منافع بخش تیل کے ایک بیرل کو خسارے کا سودا بنا سکتی ہے۔ ریفائنری مالکان مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ اس کاروبار کا لازمی حصہ ہے۔ تاہم، انہیں اس امکان کا سامنا نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی اپنی حکومت اچانک ان کے کاروبار کے معاشی حالات کو تبدیل کردے گی تاکہ محصولات کی وصولی میں موجود کسی کمی کو پورا کیا جاسکے۔

مارکیٹ کے خطرات قبول کرنے اور ایسی حکومت کی جانب سے پالیسی کے خطرات مسلط کیے جانے میں فرق ہے جو آپ کو ایک طے شدہ مذاکراتی فریم ورک کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی دعوت دے چکی ہو۔ پہلا کاروبار کرنے کی لاگت ہے، جبکہ دوسرا پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت ہے۔

یہ بھی کوئی ایسی صنعت نہیں جو غیر معمولی منافع کے ایک عشرے سے گزر کر ابھر رہی ہو۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان کی ریفائنریوں نے ایکویٹی پر اوسطاً تقریباً 4 فیصد منافع حاصل کیا ہے۔ اس کے برعکس کھاد بنانے والی کمپنیوں نے تقریباً 26 فیصد، تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں نے 18 فیصد، بینکوں نے 16 فیصد اور سیمنٹ کمپنیوں نے 14 فیصد منافع کمایا ہے۔

یہ اعداد و شمار اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ ریفائننگ پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کا کوئی انتہائی منافع بخش کاروبار نہیں رہا۔ اگر اب قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ کاروباری ادارے اپنی آمدنی سے دستبردار ہوجائیں تو پھر طویل مدت میں سب سے کم منافع حاصل کرنے والے شعبوں میں سے ایک کو اس بوجھ کا سامنا سب سے پہلے کیوں کرنا چاہیے؟

اور اگر واقعی قومی مفاد کے نام پر کارپوریٹ منافع کی دوبارہ تقسیم کا یہی نیا فلسفہ ہے تو پھر یہ عمل صرف ریفائنریوں تک محدود کیوں رہے؟ کھاد بنانے والی کمپنیوں نے گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں طور پر زیادہ منافع کمایا ہے۔ یقیناً ان کے منافع سے چند ارب روپے حاصل کرکے نان سستا کیا جاسکتا ہے۔ آخر روٹی کا ایک ٹکڑا گھریلو غذائیت کے لیے ایک لیٹر پیٹرول سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اگر ریفائنریوں کو پیٹرولیم لیوی کی سبسڈی دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے تو شاید کھاد بنانے والی کمپنیوں سے روٹی پر سبسڈی بھی دلوائی جاسکتی ہے۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ جب کارپوریٹ منافع کو ایک عوامی سہولت سمجھ لیا جائے، جسے ریاست کسی بھی وقت کسی بھی نیک مقصد کے لیے اپنے استعمال میں لاسکتی ہو، تو اس کے بعد امکانات کی کیا حد ہوگی۔

کیا ریفائنریوں نے گزشتہ سہ ماہی میں اچھا منافع کمایا تھا؟ ممکن ہے ایسا ہوا ہو۔ اشیائے ضروریہ کی تجارت سے وابستہ کاروباروں میں بعض سہ ماہیوں کے دوران غیر معمولی منافع حاصل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک مدت کی آمدنی کو پائیدار منافع کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک اچھی سہ ماہی گزشتہ دس برسوں کے کم منافع کو ختم نہیں کرسکتی، نہ ہی مستقبل کے ممکنہ نقصانات کی تلافی کرسکتی ہے اور نہ سرمایہ جاتی اخراجات کو سستا بنا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں اچانک تبدیلی کے ذریعے اس منافع کو حکومت کے حوالے کرنا ریفائنریوں کی ذمہ داری ہے۔

اس منطق کے تحت تو ہر وہ کاروباری ادارہ جس نے کسی سہ ماہی میں اچھا منافع کمایا ہو، اسے مالیاتی حکام کی آمد کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بینکوں نے منافع کمایا ہے، سیمنٹ بنانے والی کمپنیوں نے منافع کمایا ہے اور کھاد تیار کرنے والوں نے بھی منافع حاصل کیا ہے۔ بعض شعبوں نے تو کئی برسوں سے نمایاں طور پر زیادہ منافع کمایا ہے۔ کیا کوئی وجہ ہے کہ انہیں اس سے مستثنیٰ رکھا جائے؟ شاید ان کے منافع کسی طرح زیادہ مقدس ہیں۔ یا شاید حقیقت یہ ہے کہ اس صنعت سے رقم نکالنا زیادہ آسان ہے جس کی قیمتوں کا تعین پہلے ہی ریاست کے اختیار میں ہے۔

یہ ہمیں بڑے مسئلے کی طرف لے جاتا ہے۔ پیٹرولیم لیوی محصولات جمع کرنے کا ایک غیر معمولی طور پر آسان ذریعہ بن چکی ہے۔ پیٹرولیم کی کھپت پر ٹیکس لگانا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے مشکل کام کے مقابلے میں آسان، فوری اور سیاسی طور پر زیادہ سہل ہے۔ جب ٹیکس کا نظام گہرائی پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس بات کا رجحان بڑھ جاتا ہے کہ ان ذرائع سے مزید رقم نچوڑی جائے جو پہلے ہی حکومت کی نظر میں ہیں۔

لیکن لیوی ٹیکس وصولی کا ایک ذریعہ ہے، کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ حکومت اسے سپلائی چین میں کہیں بھی منتقل کرنے کا فیصلہ کرلے، اس کا بوجھ ختم نہیں ہوجاتا۔ بالآخر کسی نہ کسی کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اگر اسلام آباد پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت سے مزید محصولات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس فیصلے کی ذمہ داری شفاف انداز میں قبول کرنی چاہیے۔ اسے خاموشی سے ریفائنریوں کے منافع کو مالیاتی جھٹکوں کا بوجھ برداشت کرنے والا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے اور یہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کہ صنعت بغیر کسی نقصان کے اس فرق کو برداشت کرلے گی۔

اس بات میں خاصا تضاد ہے کہ ایک ایسی صنعت سے، جس میں سرمایہ کاری کی ضرورت بہت زیادہ ہے، ریاست کی محصولات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم فراہم کرنے کو کہا جائے، عین اس وقت جب اسے نئی سرمایہ کاری کرنے کا پابند بھی بنایا جارہا ہو۔ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدت میں اس کی واپسی درکار ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو ایسے فنڈز لگانے سے پہلے مستقبل کے منافع، پالیسی کے استحکام اور اپنی آمدنی کے حوالے سے ضابطہ جاتی رویے پر کچھ اعتماد ہونا چاہیے، جنہیں کسی مشکل کی پہلی علامت پر واپس نہیں نکالا جاسکتا۔ اگر ان تمام مفروضوں کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تبدیل کیا جاسکتا ہے تو سرمایہ کاری کے خطرات کا اضافی معاوضہ بڑھ جاتا ہے، منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور سرمایہ ایسی منڈیوں کا رخ کرتا ہے جہاں قواعد و ضوابط انتظامی صوابدید کے تحت بار بار تبدیل نہیں ہوتے۔

ممکنہ سرمایہ کاری کے اربوں ڈالر سے متعلق سرکاری بیانات اس نقصان کی تلافی نہیں کرسکتے۔ سرمایہ کار محض اس لیے اربوں ڈالر نہیں لگاتے کہ حکومت کسی معاہدے کو تاریخی قرار دے رہی ہے۔ وہ اس لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ متوقع منافع، سرمایہ کاری کے خطرات کو جائز ثابت کرتا ہے۔ جو حکومت سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے کی دعوت دینے کے بعد ان کے منافع کے امکانات کمزور کردے، وہ اسی فریم ورک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے جس کی بنیاد پر وہ سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے۔

پاکستان پہلے ہی جدید خطوط پر استوار ہونے کی کوشش کرنے والی ایک ایسی صنعت کو مزید نقصان پہنچانے کا متحمل نہیں ہوسکتا جسے اپنی اہمیت اور ضرورت ثابت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مجوزہ اپ گریڈیشن قومی خزانے کے لیے کوئی خیراتی عطیہ نہیں ہیں۔ یہ کاروباری سرمایہ کاری ہے جس سے منافع حاصل ہونا ضروری ہے۔ اگر ریاست صاف ستھری، زیادہ مؤثر اور مسابقتی ریفائنریاں چاہتی ہے تو اسے ایسے حالات پیدا کرنا ہوں گے جن میں یہ سرمایہ کاری معاشی طور پر قابلِ عمل ہو۔

شاید حکومت کا طریقہ کار یہ ثابت کرنا ہے کہ کوئی منافع اتنا معمولی نہیں کہ اسے اپنے قبضے میں نہ لیا جاسکے اور کوئی سرمایہ کاری کا معاہدہ اتنا مقدس نہیں کہ اس پر دوبارہ غور نہ کیا جاسکے۔ اس سے یقیناً غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک واضح پیغام جائے گا۔ البتہ یہ وہ پیغام نہیں ہوگا جو اسلام آباد بظاہر دینا چاہتا ہے۔

اگر قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ ہر منافع بخش کاروبار جب بھی حکومت کو مناسب لگے، ریاست کو سبسڈی فراہم کرے تو حکومت کو یہی فلسفہ بحری جہاز رانی کی صنعت تک بھی وسعت دینے پر غور کرنا چاہیے۔ مال برداری کے کرایوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور جہاز مالکان بھی غیر معمولی منافع والی سہ ماہی سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ پھر صرف ریفائنریوں تک ہی کیوں محدود رہا جائے؟ ہر اس شعبے کی نشاندہی کیوں نہ کی جائے جسے کاروباری حالات کے موافق ہونے سے فائدہ پہنچ رہا ہو اور اس سے اپنی آمدنی کا ایک حصہ سرنڈر کرنے کے لیے کہا جائے؟ ہمیشہ کوئی نہ کوئی دوسری صنعت، دوسرا مالیاتی گوشوارہ اور کوئی نہ کوئی ایسی آسان وضاحت موجود ہوتی ہے جس کے ذریعے یہ بتایا جاسکتا ہے کہ بوجھ کسی اور پر کیوں ڈالا جانا چاہیے۔

اس سوچ کا مضحکہ خیز پہلو بالکل واضح ہے۔ کسی ایسے کاروبار میں غیر معمولی منافع، جس کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہو، ریاست کو یہ مستقل دعوت نہیں دیتا کہ وہ منافع کے حصول کی شرائط ہی تبدیل کردے۔ اسی طرح نجی سرمایہ کاری کو حکومت کی فوری محصولات کی ضروریات کا یرغمال بنا کر بھی قومی مفاد کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا۔

اس کا حل یہ نہیں کہ حصص یافتگان کو خوش کرنے کے لیے کارپوریٹ اداروں کے ساتھ نرمی برتی جائے۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قابلِ پیش گوئی قواعد و ضوابط قائم کیے جائیں، ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ اگر کاروباری اداروں سے سرمایہ کاری کی توقع ہے تو انہیں مناسب منافع کمانے کا معقول امکان بھی فراہم کرنا ہوگا۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ پیٹرولیم لیوی مختلف طریقے سے وصول کی جانی چاہیے تو اسے کھل کر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے اور ایک مربوط پالیسی فریم ورک فراہم کرنا چاہیے۔ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ اچانک اس صنعت کو حیران کن فیصلے کا سامنا کرنا پڑے جس کے سرمایہ کاری منصوبوں کا انحصار انہی منافع کے امکانات پر ہے جنہیں اب خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔

جادوگری اور مسخرہ پن کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔ جادوگری ناممکن کام کو آسان دکھاتی ہے، جبکہ مسخرہ پن واضح بات کو مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ جو حکومت ریفائنریوں میں سرمایہ کاری کی نئی لہر لانے کا وعدہ کرے، لیکن ساتھ ہی ریفائننگ کے کاروبار کو معاشی طور پر نمایاں حد تک نقصان دہ بنا دے، وہ شاید یہ سمجھتی ہو کہ وہ جادوگری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ تاہم حالات کا جائزہ لینے والے سرمایہ کاروں کو یہ عمل تیزی سے مسخرہ پن دکھائی دینے لگا ہے۔

اور ایک سرکس، چاہے اس کا مظاہرہ کتنا ہی دل چسپ کیوں نہ ہو، اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے لیے موزوں جگہ نہیں ہے۔

Comments

200 حروف