ہیکنگ کے بعد بائنانس کے صارفین نے 4.7 ارب ڈالر نکال لیے، کرپٹو مارکیٹ میں خطرات پر تشویش
- بائنانس کے 6.3 ارب ڈالر کے سائبر حملے کا الزام شمالی کوریا پر عائد، کرپٹو مارکیٹ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کے صارفین نے ہیکنگ کے بعد پلیٹ فارم کی سرگرمیاں بحال ہونے پر تقریباً 5 ارب ڈالر کی رقوم نکال لی ہیں۔ اس سائبر حملے میں پلیٹ فارم سے 6.3 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی گئی تھی، جسے تاریخ کی سب سے بڑی مالی ڈکیتی قرار دیا جا سکتا ہے۔
بائنانس کے ترجمان نے بتایا کہ اتوار کی صبح رقم نکلوانے پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد صارفین نے مجموعی طور پر 4.72 ارب ڈالر کی خالص رقم نکلوائی۔ ہیکنگ کے واقعے کے بعد ایکسچینج نے تقریباً 48 گھنٹے تک رقوم نکلوانے کی سہولت معطل رکھی تھی۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے مطابق اس سائبر حملے کے پیچھے شمالی کوریا کا ہاتھ تھا۔
بائنانس نے کہا کہ پلیٹ فارم سے نکلنے والی خالص رقم اس پر موجود مجموعی اثاثوں کا تقریباً 2.8 فیصد ہے، جو نسبتاً معمولی تناسب ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کا اعتماد بڑی حد تک برقرار ہے۔
اس کے مقابلے میں 2023ء میں سلیکن ویلی بینک کے دیوالیہ ہونے کے بعد ایک ہفتے کے دوران سرکل کے امریکی ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائن یو ایس ڈی سی سے تقریباً 7 ارب ڈالر نکالے گئے تھے۔ اسی طرح دسمبر 2022ء میں کرپٹو ایکسچینج ایف ٹی ایکس کے انہدام کے بعد بائنانس سے 72 گھنٹوں کے دوران تقریباً 6 ارب ڈالر کی خالص رقوم نکالی گئی تھیں۔
بائنانس کی شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے پیر کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’اس وقت ہماری اولین ترجیح پلیٹ فارم کے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے، جس کے بعد صارفین اپنی رقوم نکال سکیں گے اور بائنانس معمول کی سرگرمیاں بحال کر سکے گا۔‘‘
اس واقعے کے بعد سرمایہ کاروں میں ممکنہ طور پر تاریخ کی کسی مالیاتی ادارے سے سب سے بڑی چوری کے اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، جس کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کا حجم بھی بڑھ گیا ہے۔
یہ حملہ شمالی کوریا کی جانب سے کرپٹو کرنسی چوری کی کارروائیوں میں شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔ بلاک چین تجزیاتی ادارے ٹی آر ایم لیبز کے مطابق شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز 2026ء کے دوران اب تک 7.4 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کر چکے ہیں۔
بائنانس نے کہا ہے کہ وہ اس نقصان کی تلافی کمپنی کے اپنے وسائل سے کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے کمپنی کے خزانے، انشورنس فنڈ اور سیکیورٹی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے مختص ذخائر سے 6 ارب ڈالر پہلے ہی حاصل کر چکا ہے۔
ہانگ کانگ میں قائم ڈیجیٹل اثاثوں کی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ہیش کی گروپ کے سینئر محقق ٹم سن نے کہا کہ ’’ابھی تک اس واقعے سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس یا ایک ہی وقت میں بھاری رقوم نکالنے کی لہر پیدا نہیں ہوئی۔‘‘
ٹم سن کے مطابق سیکیورٹی سے متعلق خدشات اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ مارکیٹ میں سرگرم بڑے سرمایہ کار، ادارے اور دیگر سرمایہ کار کرپٹو کرنسیوں میں کتنی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں 335 ملین سے زائد صارفین رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بائنانس نے صارفین کا اعتماد بحال کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ کمپنی کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کے مشتقات میں روزانہ اوسط کاروباری حجم 95 ارب ڈالر ہے۔
بائنانس نے ایکس پر کہا کہ ’’ابتدائی اضافے کے بعد رقوم نکلوانے کا حجم کم ہو گیا ہے اور اب مستحکم ہو رہا ہے۔‘‘ ترجمان کے مطابق پلیٹ فارم پر 2.7 ارب ڈالر کی رقوم بھی واپس جمع کرائی گئی ہیں۔
رقوم نکلوانے کی کوئی جلدی نہیں
بعض تاجروں نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے اکاؤنٹس برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
سنگاپور میں قائم بلاک چین کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایشیا ویب تھری اے آئی ایسوسی ایشن کے نائب صدر جے کوہ نے کہا کہ ’’میں بائنانس سے اپنی تمام رقوم لازماً نہیں نکلواؤں گا، کیونکہ مرکزی کنٹرول کے تحت کام کرنے والے ایکسچینجز اب بھی مارکیٹ میں نقدی کی دستیابی، تجارت اور مارکیٹ تک رسائی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘
بائنانس کے ایک صارف ریان ٹین نے کہا کہ انہیں پلیٹ فارم سے اپنی رقوم نکلوانے کی کوئی جلدی نہیں، کیونکہ چار سال قبل ایک اور کرپٹو ایکسچینج ایف ٹی ایکس کے انہدام کے بعد سے انہوں نے اپنا اکاؤنٹ پہلے ہی محدود رکھا ہوا ہے۔
39 سالہ ریان ٹین نے کہا کہ ’’ایف ٹی ایکس کے انہدام کے بعد میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اپنی تمام کرپٹو کرنسی ایکسچینجز پر رکھنے کے بجائے اپنے ذاتی ڈیجیٹل والیٹ میں محفوظ رکھوں گا۔‘‘
جمعے کے روز چھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت ہفتے کے اختتام پر بحال ہوئی اور پیر کے روز تقریباً 78 ہزار ڈالر پر کاروبار کر رہی تھی، جبکہ ایتھر کی قیمت بھی دو ماہ کی کم ترین سطح سے واپس اوپر آ گئی۔
اسٹیبل کوائنز کی مجموعی مارکیٹ مالیت میں بھی جمعے کے بعد سے کمی دیکھی گئی ہے۔ اسے عموماً کرپٹو مارکیٹ میں رقوم کی آمد و رفت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم نقدی یا روایتی اثاثوں میں منتقل کر دی ہیں۔
بائنانس نے بتایا کہ بٹ کوائن نیٹ ورک پر بٹ کوائن، جبکہ ایتھر نیٹ ورک پر ایتھر اور بعض ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز کی رقوم نکلوانے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ تاہم کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق بیشتر کرپٹو کرنسیوں کے لیے رقوم نکلوانے پر جزوی پابندی اب بھی برقرار ہے۔
پیر کے روز امریکی ڈالر کی نقد رقم نکلوانے کا آپشن بھی بحال کر دیا گیا۔
بڑے سرمایہ کار محتاط ہو گئے
بائنانس سے ہونے والی چوری شمالی کوریا سے منسوب کرپٹو کرنسی چوری کے واقعات کی ایک طویل فہرست میں سب سے بڑا واقعہ ہے۔
ایف بی آئی نے ہفتے کے روز کہا کہ اس حملے کی ذمہ دار شمالی کوریا کی سرپرستی میں کام کرنے والی ہیکرز کی تنظیم ٹریڈر ٹریٹر ہے۔ محققین کے مطابق یہ گروپ انتہائی جدید تکنیکی صلاحیتوں کا حامل ہے اور اس کی سرگرمیوں سے شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگراموں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کا حجم اور اس کی اہمیت ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی محدود کر سکتی ہے، جبکہ بہت سے سرمایہ کاروں کو توقع تھی کہ ایسے اداروں کی سرمایہ کاری قیمتوں کو سہارا دے گی۔
امریکی بلاک چین تجزیاتی ادارے ٹی آر ایم لیبز کے عالمی سربراہ برائے پالیسی ایری ریڈبورڈ کے مطابق جمعے کے روز اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سے 643 ملین ڈالر کی خالص رقوم نکلیں، جو اکتوبر میں ایک روز کے دوران سب سے زیادہ رقم نکلوانے کا واقعہ تھا۔ اس کے علاوہ لیوریج پر مبنی سرمایہ کاری کی 1.3 ارب ڈالر سے زائد کی پوزیشنز بھی ختم کر دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’کرپٹو ایکسچینج کی ہیکنگ انٹرنیٹ کی رفتار سے ہونے والی بینک ڈکیتی کے مترادف ہے، جس سے دوسرے لوگوں کے سرمائے کے ذمہ دار ہر شخص کے لیے خطرات کی ایک غیر مستحکم صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘
چوری شدہ رقوم کا تقریباً نصف حصہ اسٹیبل کوائنز کی صورت میں تھا، جنہیں سرکل سمیت ان کے اجرا کرنے والے اداروں نے منجمد کر دیا ہے۔ سرکل نے پیر کے روز بتایا کہ اس نے یو ایس ڈی سی کی 1.1 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی رقوم منجمد کر دی ہیں۔
کرپٹو اثاثوں کی بازیابی کے ادارے آئی سینکچوری کے بانی اور چیف ایگزیکٹو جوناتھن بینٹن نے کہا کہ چوری شدہ رقوم کا سراغ لگانے کے لیے ٹیکنالوجی موجود ہے، تاہم اصل چیلنج اس معلومات کو فوری اور مربوط کارروائی میں تبدیل کرنا ہے، اس سے پہلے کہ چوری شدہ اثاثے غائب ہو جائیں۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے بین الاقوامی بدعنوانی یونٹ کے سابق سربراہ جوناتھن بینٹن نے کہا کہ ’’کرپٹو کرنسی کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہو گا کہ مارکیٹ میں کتنی رقم آتی ہے، بلکہ اس سے طے ہو گا کہ وہاں پہنچنے کے بعد یہ رقم کتنی محفوظ رہتی ہے۔‘‘


Comments