کرپٹو تاریخ کی سب سے بڑی واردات، بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری، اثاثے منجمد
- سرمایہ کار ڈیجیٹل اثاثوں کی ملکیت سے وابستہ خطرات پر ازسرنو غور کرسکتے ہیں، تجزیہ کار
ہیکرز نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر چوری کرلیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ ہے جس کے بعد سرمایہ کار ڈیجیٹل اثاثوں کی ملکیت سے وابستہ خطرات پر ازسرنو غور کرسکتے ہیں۔
امریکی بلاک چین تجزیاتی اداروں ٹی آر ایم لیبز اور چین اینالیسس کے مطابق اس سائبر حملے میں ملوث ہیکرز کا تعلق شمالی کوریا سے تھا۔
ٹی آر ایم لیبز نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آوروں نے 10 بلاک چینز پر بائنانس کے ڈیجیٹل والٹس کو نشانہ بنایا اور تقریباً 20 منٹ کے اندر زیادہ تر رقم دوسرے مقامات پر منتقل کردی۔
بائنانس نے کہا کہ اس نے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔
بائنانس نے باقی 3.3 ارب ڈالر کی رقم کی صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، تاہم اس کے شریک بانی یی ہی نے کہا کہ ایکسچینج ہیکنگ کے تمام نقصانات پورے کرے گا۔
بائنانس کے مطابق اس کے صارفین کی جمع شدہ رقوم متاثر نہیں ہوئیں اور توقع ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں رقم نکلوانے کی خدمات دوبارہ شروع کردی جائیں گی۔
ٹی آر ایم کے مطابق اس سائبر حملے کی متعدد خصوصیات شمالی کوریا سے منسلک ماضی کی ہیکنگ کی وارداتوں سے مماثلت رکھتی ہیں جن میں 2025 میں کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ پر کیا گیا حملہ بھی شامل ہے، جس کا ذمہ دار امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے شمالی کوریا کو قرار دیا تھا۔
ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اس نتیجے پر پورا اعتماد ہے۔
جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن اور چین میں اس کے سفارت خانے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
بلاک چین تجزیاتی ادارے چین اینالیسس اور کرپٹو انڈسٹری کے دیگر ماہرین کے مطابق یہ واقعہ دنیا کی تاریخ میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی چوری ہوسکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کی بڑی کمپنی جی ایس آر کے سسٹمیٹک او ٹی سی کاروبار کے سربراہ اروند سرینیواسن نے کہا کہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ ہے۔
جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں اس واقعے کے فوری اثرات دیکھنے میں آئے۔ بٹ کوائن کی قیمت 3 فیصد سے زیادہ گر کر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح 76 ہزار 368 ڈالر پر آگئی جبکہ ایتھر کی قیمت بھی 3 فیصد سے زائد کمی کے بعد دو ماہ کی کم ترین سطح 2 ہزار 178 ڈالر پر پہنچ گئی۔
بائنانس کوائن کے نام سے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل ٹوکن بی این بی کی قیمت، جسے بائنانس کی فیسوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 فیصد کمی کے بعد 709.70 ڈالر رہی۔ کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کوائن گیکو کے مطابق یہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادھر امریکی کاروباری اوقات کے بعد کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس گلوبل کے حصص 4.8 فیصد گرگئے جبکہ بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی اسٹریٹیجی کے حصص میں بھی تقریباً 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ہیک کیا گیا لیپ ٹاپ
بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ سائبر حملے کا آغاز اس کے ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ کو ہیک کیے جانے سے ہوا ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے حملہ آور نے کمپنی کے ایک سسٹم تک رسائی حاصل کی اور غیر مجاز طور پر رقوم نکال لیں۔
بائنانس نے کہا کہ اس واقعے کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ کمپنی کی سیکیورٹی ٹیم ہیک کیے گئے کمپیوٹر کے ذریعے حملے کے مکمل طریقہ کار کا سراغ لگارہی ہے جو ممکنہ طور پر اس سائبر حملے میں داخلے کا ابتدائی راستہ بنا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اثاثوں کے ممکنہ نقصان کے علاوہ اس سیکیورٹی خلاف ورزی کے کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ پر بھی وسیع اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے جو پہلے ہی امریکا میں شرح سود بلند رہنے اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایف) کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے والے خریداروں کی طلب میں کمی کے باعث دباؤ کا شکار تھی۔
ہانگ کانگ میں قائم ہیش کی گروپ کے سینئر محقق ٹم سن نے کہا کہ اس واقعے سے سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی آمادگی مزید متاثر ہوسکتی ہے اور وہ مرکزی نوعیت کے کرپٹو ایکسچینجز میں رکھے گئے اثاثوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ فریقِ ثانی کے خطرات، مالی ادائیگی کی صلاحیت اور نقدی کی دستیابی سے متعلق خدشات کا بھی ازسرنو جائزہ لے سکتے ہیں۔
بائنانس ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اور لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 33 کروڑ 50 لاکھ ہے جبکہ ایکسچینج کے پاس زیرِ تحویل اثاثوں کی مالیت تقریباً 162.8 ارب ڈالر تھی۔
بائنانس نے ایک بیان میں کہا کہ صارفین کی رقوم محفوظ ہیں۔
بائنانس کے پاس صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کا خصوصی فنڈ موجود
بائنانس کی ویب سائٹ کے مطابق، کمپنی نے صارفین کے لیے محفوظ اثاثوں کا ایک خصوصی فنڈ قائم کر رکھا ہے جس میں مکمل طور پر بٹ کوائن کی صورت میں ذخائر رکھے جاتے ہیں۔ اس فنڈ کا مقصد سیکیورٹی کی خلاف ورزی یا سائبر حملے کی صورت میں صارفین کے اثاثوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ادائیگیوں اور اسٹیبل کوائن انفرااسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی ٹریس فنانس کے چیف ایگزیکٹو برنارڈو برائٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی اتنی تیزی سے ممکن ہوگئی ہے کہ ہیکنگ کے حملوں کا بروقت تدارک انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے کیونکہ اے آئی ان خامیوں کو دور کیے جانے سے پہلے ہی تلاش کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں صارفین چھوٹے اور درمیانے درجے کے کرپٹو ایکسچینجز سے اپنی رقوم نکال کر دیگر پلیٹ فارمز کا رخ کریں گے، کیونکہ ایسے اداروں کے پاس بڑی مالیت کے سائبر حملے سے ہونے والے نقصانات پورے کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث وہاں رقم رکھنا بہت زیادہ خطرناک ہوتا جارہا ہے۔
اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنی ٹیتھر نے کہا کہ اس نے اس واقعے سے منسلک تقریباً 1.57 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیے ہیں جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر سے زائد کے اثاثے منجمد کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان سے منسلک کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے کرپٹو کرنسی کے تحویل کار ادارے بٹ گو کے ساتھ مل کر بائنانس کی ہیکنگ میں چوری کیے گئے فنڈز منجمد کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ بائنانس کی شریک بانی یی ہی کے مطابق 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے اسٹیبل کوائنز اور ورلڈ لبرٹی کے تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹوکنز منجمد کردیے گئے ہیں۔
یی ہی نے بتایا کہ کرپٹو کمپنی ریپل نے بھی تقریباً 20 کروڑ ڈالر کے فنڈز منجمد کیے ہیں۔ ریپل میں اسٹیبل کوائنز کے شعبے کے سینئر نائب صدر جیک میکڈونلڈ نے کہا کہ کمپنی بائنانس سے متعلق ممکنہ سائبر حملے کی اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ فنڈز منجمد کرنے کے ساتھ متعلقہ اداروں سے رابطہ اور تعاون بھی کر رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی چوری کے بڑھتے واقعات میں ایک اور بڑا اضافہ
بلاک چین انٹیلی جنس فرم آرکھم کے چیف ایگزیکٹو میگوئل موریل نے کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی نامعلوم ہیکر نے بائنانس سے بظاہر اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے چوری کیے ہیں۔
یہ واقعہ کرپٹو کرنسی کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک تازہ کڑی ہے۔ ٹی آر ایم لیبز کے محققین کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 150 سائبر حملوں کے دوران 2.9 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی گئی تھی۔
ستمبر میں کرپٹو کرنسی ایکسچینج بٹ گیٹ نے کہا تھا کہ اس کے پلیٹ فارم سے تقریباً 35 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوگئی جس سے اس صنعت کی ہیکرز کے حملوں کے سامنے کمزوری واضح ہوتی ہے۔
حکام خبردار کرچکے ہیں کہ منظم جرائم پیشہ گروہ روایتی مالیاتی نظام سے باہر سرحد پار رقوم کی منتقلی کے لیے کرپٹو کرنسیوں کا استعمال تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔
ایک اور کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے کہا کہ وہ اس سیکیورٹی واقعے سے متاثر نہیں ہوا۔
کوائن بیس نے بھی کہا کہ اس کا پلیٹ فارم متاثر نہیں ہوا اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔


Comments