ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ، یورپ جلد ہی ہمارے لیبلز پڑھے گا
- قانونی ذمہ داری برانڈز پر عائد ہوگی، تاہم اس کیلئے درکار معلومات انہی ملوں اور سپلائرز سے حاصل کرنا ہوں گی جنہوں نے مصنوعات تیار کی ہوں گی
تقریباً 2029 میں یورپ کا ایک خریدار پاکستانی بیڈ شیٹ پر موجود کوڈ اسکین کرے گا اور توقع رکھے گا کہ اسے معلوم ہو کہ اس میں استعمال ہونے والی کپاس کہاں اگائی گئی، کس مل میں دھاگا تیار کیا گیا، کون سے رنگ استعمال کیے گئے اور اس کی تیاری میں کتنی توانائی صرف ہوئی۔ یورپی یونین کے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ (ڈی پی پی) کا عملی مطلب یہی ہے۔ متعلقہ تفویض کردہ قانون (ڈیجیٹل ایکٹ) منظور ہونے کے بعد اس کا اطلاق ٹیکسٹائل مصنوعات پر ہوگا، جس کی منظوری 2027 کے اواخر میں متوقع ہے۔
قانونی ذمہ داری برانڈز اور درآمد کنندگان پر عائد ہوگی، تاہم اس کے لیے درکار معلومات انہی ملوں اور سپلائرز سے حاصل کرنا ہوں گی جنہوں نے مصنوعات تیار کی ہوں گی۔
مالی سال 2025-26 میں یورپی یونین نے پاکستان سے تقریباً 8.96 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کیں، جو مجموعی برآمدات کا تقریباً 30 فیصد ہیں، جبکہ اس تجارت میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ 70 سے 76 فیصد ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات 17.93 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم ان میں اضافہ محض 0.26 فیصد رہا، جبکہ ملکی مجموعی برآمدات 5.9 فیصد کمی کے بعد 30.1 ارب ڈالر رہیں۔
صرف نٹ ویئر سے 4.97 ارب ڈالر، تیار ملبوسات سے 4.29 ارب ڈالر اور بیڈ ویئر سے 3.11 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ معیشت کا اتنا بڑا حصہ رکھنے والا شعبہ صرف اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث اپنی سب سے قیمتی منڈی سے محرومی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ ہر برآمد کنندہ سے تین سوالات کے جواب طلب کرتا ہے: یہ مصنوعات کہاں تیار کی گئیں، ان کی تیاری میں کس نوعیت کی توانائی استعمال ہوئی، اور کیا سپلائی چین میں شامل ہر سپلائر اپنے حصے کے کام کا ثبوت فراہم کرسکتا ہے؟ پہلے سوال پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط، دوسرے پر امکانات حوصلہ افزا، جبکہ تیسرے پر کمزور ہے۔ ہر معاملے میں حکومتی پالیسی فیصلہ کرے گی کہ ان خوبیوں سے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کے تقاضے پورے کرنے میں کس حد تک فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
یہ مؤقف معقول ہے کہ ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ پاکستان کے حق میں کام کرسکتا ہے۔ خام مال کے ماخذ کے حوالے سے پاکستانی صنعت غیرمعمولی طور پر مربوط ہے۔ بہت سے برآمد کنندگان مقامی کپاس خریدتے ہیں اور پھر ایک ہی گروپ کے اندر دھاگا تیار کرنے، کپڑا بُننے، پروسیسنگ اور سلائی کے مراحل مکمل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ملبوسات برآمد کرنے والے تیسرے بڑے ملک ویتنام کا انحصار درآمدی کپڑے پر ہے، جبکہ بنگلہ دیش اپنی زیادہ تر کپاس اور دھاگے کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ جب ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ پیداوار کے ہر مرحلے میں استعمال ہونے والے خام مال کا ماخذ پوچھے گا تو فیصل آباد میں موجود ایک مربوط سپلائر کے لیے اپنی سپلائی چین کی دستاویزات تیار کرنا نسبتاً آسان ہوگا۔
توانائی کے معاملے میں قومی بجلی کا نظام عمومی تاثر سے بہتر ہے۔ ایمبر کے مطابق 2025 میں پاکستان کی تقریباً 55 فیصد بجلی کم کاربن والے ذرائع سے پیدا ہوئی، جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ پاکستانی قومی گرڈ کی بجلی سے تیار کردہ ملبوسات کا کاربن اخراج ویتنام یا بنگلہ دیش میں تیار ہونے والے ملبوسات سے کم ہوسکتا ہے، جہاں کوئلے اور گیس کا استعمال غالب ہے۔ تاہم، اس فائدے کو ایسے قابلِ تصدیق شواہد میں تبدیل کرنا جنہیں خریدار قبول کرے، وہ مقام ہے جہاں حکومتی پالیسیاں صنعت کے لیے رکاوٹ بنتی ہیں۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کے اندازے کے مطابق پاکستانی برآمد کنندگان بجلی کے لیے تقریباً 13.2 امریکی سینٹ فی کلوواٹ آور ادا کرتے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ قیمت 10.2 سینٹ اور ویتنام میں 7 سینٹ ہے۔
اس کے بعد مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدوں کی مارکیٹ( سی ٹی بی سی ایم) فعال ہوئی، جس کا مقصد بڑے صارفین کو بجلی پیدا کرنے والوں، بشمول قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والوں، سے براہِ راست بجلی خریدنے کی سہولت دینا تھا۔ خریداروں کے تقاضے واضح کرتے ہیں کہ یہ سہولت کیوں اہم ہے۔ انڈیٹیکس کے جی ٹی ڈبلیو پروگرام کے تحت اعلیٰ ترین ماحولیاتی درجہ بندی حاصل کرنے کے خواہش مند سپلائرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بجلی کا ایک نمایاں حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کریں۔
بڑی مربوط ٹیکسٹائل مل کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عموماً چھتوں پر نصب شمسی پینل کافی نہیں ہوتے، اور پاکستان میں بہت کم فیکٹریاں انڈیٹیکس کی اعلیٰ ترین درجہ بندی حاصل کر پاتی ہیں۔ سی ٹی بی سی ایم نے پہلی مرتبہ قومی گرڈ کے ذریعے قابلِ تجدید بجلی خریدنے کا راستہ فراہم کیا، لیکن دستیاب بجلی کی مقدار بہت کم ہے۔ پاکستان کی مجموعی بجلی کی طلب تقریباً 26 گیگاواٹ ہے، جس میں صنعت کا حصہ تقریباً 36 فیصد، یعنی لگ بھگ 9.4 گیگاواٹ بنتا ہے۔
پہلی نیلامی میں صرف 400 میگاواٹ بجلی شامل ہے، جو صنعتی طلب کا تقریباً 4.3 فیصد ہے۔ یہ بجلی 3,000 سے زیادہ بڑے صارفین میں تقسیم ہونی ہے۔ دونوں مراحل کے لیے مختص کردہ مکمل 800 میگاواٹ بجلی بھی صنعتی طلب کا محض 8.5 فیصد پورا کرسکے گی۔ مزید یہ کہ ستمبر میں نوٹیفائی کیے گئے وہیلنگ چارجز صنعت کے لیے 9 سے 12 روپے فی یونٹ، جبکہ تجارتی صارفین کے لیے 18 سے 19 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئے ہیں۔ نتیجتاً، زیادہ تر ملوں کے پاس قابلِ تجدید بجلی حاصل کرنے کا کوئی مؤثر راستہ نہیں، حالانکہ ایسی بجلی ان کے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ میں درج کیے جانے والے کاربن اخراج کو کم کرسکتی ہے۔
ویتنام نے 2025 میں بڑے صارفین کو قابلِ تجدید توانائی براہِ راست خریدنے کی سہولت فراہم کردی تھی۔ پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے سرٹیفکیٹس کا ایسا تسلیم شدہ نظام موجود نہیں جس کے ذریعے ملیں قومی گرڈ میں شامل اس صاف توانائی کے حصے کا دعویٰ کرسکیں جس کی وہ قیمت ادا کرتی ہیں۔
توانائی کا مسئلہ الگ ہے۔ رنگائی اور کپڑے کی تکمیل کے عمل کے لیے درکار بھاپ کا بڑا حصہ بایوماس سے پیدا کیا جاتا ہے۔ اس سے فوسل ایندھن کے استعمال اور اس سے وابستہ اخراج میں کمی آتی ہے، لیکن بایوماس کی تجارت زیادہ تر غیررسمی طریقے سے ہوتی ہے۔ اس کی قیمتیں فصلوں کی پیداوار کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، معیار میں فرق ہوتا ہے اور بہت کم ملیں یہ بتا سکتی ہیں کہ ان کا ایندھن کہاں سے آیا۔ ایندھن کے معیار مقرر کرنا، سپلائرز کا رجسٹر بنانا اور خام مال کے ماخذ سے آخری صارف تک اس کی نقل و حرکت کا بنیادی ریکارڈ رکھنا حکومت کے لیے زیادہ اخراجات کا باعث نہیں ہوگا۔
تیسرے سوال کے معاملے میں پاکستان سب سے کمزور ہے۔ ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کی تکمیل اتنی ہی ہوگی جتنی سپلائی چین میں سب سے کم دستاویزی ریکارڈ رکھنے والے سپلائر کی معلومات دستیاب ہوں گی۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) پر پڑے گا، جن میں لوازمات تیار کرنے والے، آزاد رنگائی کے کارخانے اور سلائی کے ٹھیکے دار وغیرہ شامل ہیں۔ بنگلہ دیش میں اب 280 ملبوسات کی فیکٹریاں لیڈ سرٹیفکیشن حاصل کرچکی ہیں، لیکن یہ پیش رفت بڑی حد تک ان بڑے برآمد کنندگان کی بدولت ہوئی جنہیں مالی وسائل اور خریداروں کی معاونت حاصل تھی۔
ویتنام میں بینکوں اور ترقیاتی شراکت داروں نے ملبوسات کے شعبے سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو گرین کریڈٹ اور ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے کے رہنما پیکیجز فراہم کرنا شروع کردیے ہیں۔ پاکستان میں قومی سطح پر اس نوعیت کا کوئی متبادل نظام موجود نہیں۔ اگر چھوٹے سپلائرز مطلوبہ اعداد و شمار فراہم نہ کرسکے تو بڑے برآمد کنندگان ان کی جگہ بیرون ملک سپلائرز سے کاروبار شروع کردیں گے۔ اس سے پاکستان کی مقامی سپلائی چین کمزور ہوگی، حالانکہ یہی اس صنعت کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔
ان تمام مسائل کا یہ مطلب نہیں کہ ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ یہ ان کمپنیوں کو فائدہ دے گا جو اپنے دعوؤں کے ثبوت فراہم کرسکیں گی، اور یہ خوبی پاکستان کی مربوط ٹیکسٹائل صنعت کے حق میں جاتی ہے۔ تاہم، اس ثبوت کی تیاری کا سارا خرچ صرف سپلائرز پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ برانڈز تقاضے مقرر کرتے ہیں اور ان معلومات سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں، اس لیے ان تقاضوں کو پورا کرنے میں ان کی شراکت فطری ہے۔ وہ مشترکہ مالی معاونت فراہم کرکے، ایسے طویل مدتی معاہدے کرکے جو قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کو قابلِ عمل بنائیں، اور چھوٹے سپلائرز کو ڈیٹا سسٹم تیار کرنے میں مدد دے کر یہ اخراجات بانٹ سکتے ہیں۔
منتقلی کے اس عمل کی مشترکہ ذمہ داری صرف برانڈز تک محدود نہیں بلکہ حکومت، ترقیاتی شراکت داروں اور صنعتی انجمنوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہی مشترکہ کوشش ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کو محض قانونی تقاضے پورے کرنے کی لاگت کے بجائے پاکستان کے لیے مسابقتی برتری میں تبدیل کرسکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔


Comments