برطانوی بادشاہ چارلس کا دورۂ کیریبین، غلاموں کی تجارت پر ہرجانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
- گزشتہ ماہ کیریبین کمیونٹی (کیریکوم) نے مطالبہ کیا تھا کہ غلاموں کی تجارت پر ہرجانے کا معاملہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے
برطانوی بادشاہ چارلس سوم اس ہفتے کیریبین کے دورے پر روانہ ہوں گے، ایسے وقت میں جب خطے کے ممالک برطانیہ سے غلاموں کی تجارت میں اس کے تاریخی کردار پر ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ تیز کر رہے ہیں۔
بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پہلے بہاماس اور گیانا جائیں گے، جس کے بعد وہ اینٹیگوا و باربوڈا میں دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ تنظیم کا دو سالہ اجلاس ہے، جس کی سربراہی بادشاہ چارلس کرتے ہیں۔ دورہ 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک جاری رہے گا۔
گزشتہ ماہ کیریبین کمیونٹی (کیریکوم) نے مطالبہ کیا تھا کہ غلاموں کی تجارت پر ہرجانے کا معاملہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ تنظیم کی سیکریٹری جنرل کارلا بارنیٹ کے مطابق ہرجانہ انصاف، ماضی کی ناانصافیوں کے اعتراف اور مساوی مستقبل کی تعمیر سے متعلق ہے۔
بکنگھم پیلس کے مطابق بادشاہ دورے کے دوران غلاموں کی تجارت میں برطانیہ کے کردار کا ذکر کرنے سے گریز نہیں کریں گے، تاہم برطانوی حکومت کی پالیسی کے تحت وہ باضابطہ معافی نہیں مانگیں گے اور مالی ہرجانے کی ادائیگی بھی زیر غور نہیں۔
دولتِ مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی بوچوے نے بھی کہا ہے کہ مالی معاوضے یا نوآبادیاتی دور میں لے جائی گئی تاریخی اشیا کی واپسی سمیت ہرجانے پر بات چیت کا وقت آگیا ہے۔
تاریخی اندازوں کے مطابق پندرھویں سے انیسویں صدی کے دوران یورپی تاجروں نے کم از کم ایک کروڑ 25 لاکھ افریقی باشندوں کو اغوا کرکے غلامی کے لیے فروخت کیا۔ ان میں سے تقریباً 32 لاکھ افراد کو برطانیہ نے منتقل کیا تھا۔


Comments