BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.2%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.56%)
BAFL 55.71 Increased By ▲ 0.20 (0.36%)
BIPL 23.52 Decreased By ▼ -0.45 (-1.88%)
BOP 27.22 Decreased By ▼ -0.08 (-0.29%)
CNERGY 12.30 Decreased By ▼ -0.10 (-0.81%)
DFML 16.06 Increased By ▲ 0.27 (1.71%)
DGKC 181.44 Increased By ▲ 5.86 (3.34%)
FABL 89.74 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
FCCL 51.61 Increased By ▲ 1.96 (3.95%)
FFL 13.08 Decreased By ▼ -0.28 (-2.1%)
GGL 19.05 Increased By ▲ 0.36 (1.93%)
HBL 282.12 Decreased By ▼ -1.14 (-0.4%)
HUBC 188.31 Increased By ▲ 0.45 (0.24%)
HUMNL 8.06 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
KEL 5.65 Increased By ▲ 0.10 (1.8%)
LOTCHEM 22.51 Decreased By ▼ -0.53 (-2.3%)
MLCF 88.83 Increased By ▲ 2.20 (2.54%)
OGDC 300.92 Increased By ▲ 2.80 (0.94%)
PAEL 32.40 Increased By ▲ 0.35 (1.09%)
PIBTL 12.89 Increased By ▲ 0.34 (2.71%)
PIOC 227.28 Increased By ▲ 3.11 (1.39%)
PPL 212.36 Increased By ▲ 2.19 (1.04%)
PRL 95.71 Increased By ▲ 1.19 (1.26%)
SNGP 89.73 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
SSGC 22.53 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 6.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.65%)
TPLP 11.51 No Change ▼ 0.00 (0%)
TRG 53.68 Increased By ▲ 1.14 (2.17%)
UNITY 7.70 Increased By ▲ 0.08 (1.05%)
WTL 0.88 Decreased By ▼ -0.01 (-1.12%)
دنیا

حوثیوں کے حملوں میں شدت، مصر کی سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی منظوری

  • مصر کی پارلیمان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو حوثیوں کے خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے دفاع کی اجازت دے دی، تاہم قاہرہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی معاونت سعودی سرزمین کے تحفظ تک محدود رہے گی
شائع اپ ڈیٹ

مصر کی پارلیمان نے پیر کے روز صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دفاع میں مدد کے لیے ’’تمام ضروری اقدامات‘‘ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام سے قاہرہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازعے میں زیادہ براہِ راست شامل ہوسکتا ہے۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ اگر ریاض حوثیوں کے خلاف مدد طلب کرے تو مصر کو اپنے خلیجی عرب اتحادی اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی دفاعی معاونت کی منظوری دی جائے۔ حوثیوں کی پیش قدمی سے اہم آبنائے باب المندب کو بھی خطرہ لاحق ہے، جو بحیرہ احمر اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا جنوبی راستہ ہے۔

پارلیمان کے ارکان کی جانب سے رائٹرز کو فراہم کردہ ایوان کے اعلامیے کے مطابق، کم از کم دو تہائی ارکان نے اس اقدام کی حمایت کی۔

مصر خلیجی ممالک پر ایران اور حوثیوں کے حملوں کی بارہا مذمت کرتا رہا ہے، تاہم اس نے اب تک براہِ راست لڑائی میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں شامل ہوا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک کے اعلیٰ حکام پیر کے روز تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کر رہے تھے، جس کا مقصد تنازعے کی شدت کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرنا تھا۔

مصر کی پارلیمان نے گزشتہ ہفتے اس معاملے پر ووٹنگ مؤخر کردی تھی، جس کے بعد وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس سربراہ حسن رشاد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک خط پہنچانے کے لیے ریاض گئے تھے۔ خط میں صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا تھا کہ مصر کی معاونت سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گی، یمن پر حملوں کے لیے نہیں۔

بدر عبدالعاطی نے دورے کے بعد کہا تھا کہ قاہرہ یمن کے تنازعے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے ’’ہر ممکن موقع‘‘ سے فائدہ اٹھانے کا حامی ہے۔

عرب دنیا کی سب سے زیادہ آبادی اور خطے کی بڑی افواج میں سے ایک رکھنے والے مصر نے مارچ 2015 میں یمن کی جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اس وقت مصر نے بنیادی طور پر بحری شراکت دار کی حیثیت سے کردار ادا کیا اور بحیرہ احمر میں جہازرانی کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے جنگی جہاز بھیجے۔ اس نے تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے تھے، تاہم لڑائی میں اس کا کردار محدود رہا۔

مصر نے 1960 کی دہائی میں یمن میں ایک مہنگی فوجی مداخلت کی تھی اور 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر زمینی فوج تعینات نہیں کی۔

یمن کی مجلسِ نمائندگان کے اسپیکر یحییٰ علی الرائی نے گزشتہ ہفتے مصری پارلیمان پر زور دیا تھا کہ وہ اس تجویز کو مسترد کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مصر کی اپنی قومی سلامتی اور داخلی استحکام کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب قاہرہ کا اہم سیاسی اور مالیاتی شراکت دار ہے۔ صدر السیسی کے دور میں سعودی عرب مصر کو اربوں ڈالر کی امداد، مرکزی بینک میں رقوم جمع کرانے اور توانائی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں معاونت کرتا رہا ہے۔

یمن کی حکومت اور دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی ملیشیا کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں یہ محاذ خطے کے غیر مستحکم ترین محاذوں میں شامل ہوگیا ہے۔

حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ امدادی اداروں نے یمن میں حالات مزید خراب ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جہاں پہلے ہی دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک جاری ہے۔

معاملے سے واقف افراد نے ستمبر میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ سعودی ولی عہد نے امریکا سے فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف حملوں کی منظوری نہیں دی۔ ان افراد کے مطابق واشنگٹن نے ریاض کو انٹیلی جنس کے تبادلے اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

Comments

200 حروف