فضائی آلودگی میں لاہور دنیا بھر میں سرفہرست، اے کیو آئی خطرناک سطح پر پہنچ گیا
- معالجین کا لاہور کے شہریوں کو فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے باہر نکلتے وقت ماسک پہننے کا مشورہ
سوئٹزرلینڈ کے فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم آئی کیو ایئر کے مطابق، لاہور جمعے کی صبح دنیا کے بڑے شہروں میں سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار پایا، جہاں فضائی معیار خطرناک سطح تک پہنچ گیا۔
آئی کیو ایئر کے براہِ راست اعداد و شمار کے مطابق، جمعے کی صبح ایک وقت شہر کا فضائی معیار اشاریہ (اے کیو آئی) 410 ریکارڈ کیا گیا، جو اسے ’’خطرناک‘‘ درجے میں لے آیا۔
بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی 203 کے اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ سینیگال کا شہر ڈکار 196 کے اشاریے کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھا۔
معالجین نے لاہور کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔ آئی کیو ایئر نے بھی شہریوں کو بیرونی مقامات پر ورزش سے گریز کرنے، کھڑکیاں بند رکھنے اور گھروں کے اندر ہوا صاف کرنے والے آلات استعمال کرنے کی ہدایت کی۔
پلیٹ فارم نے انتہائی باریک ذرات، جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے، کو شہر میں آلودگی کا بنیادی سبب قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق، ان ذرات کا ارتکاز عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما حد سے 45.2 گنا زیادہ تھا۔

پی ایم 2.5 سے مراد فضا میں موجود ایسے انتہائی باریک ذرات ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرومیٹر یا اس سے کم ہوتا ہے۔ یہ ذرات پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے تک ان کی زد میں رہنے سے صحت کے سنگین مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی ماحول اور صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، خصوصاً لاہور میں سردیوں کے دوران اسموگ کے موسم میں۔ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں، صنعتی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانے اور آلودہ ہوا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے والے موسمی حالات اس مسئلے میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
جمعے کی صبح دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور واحد پاکستانی شہر تھا، جبکہ آئی کیو ایئر کی وسیع تر فہرست میں کراچی کا فضائی معیار اشاریہ (اے کیو آئی) 110 ریکارڈ کیا گیا۔
آئی کیو ایئر کی درجہ بندی براہِ راست حاصل کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہوتی ہے، جن میں دن بھر اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔


Comments