جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست، آسٹریلیا کا فیصلہ کن ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں تبدیلیوں پر غور
- پیٹ کمنز نے مزید کہا، ’’اگر ہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر اپنی کارکردگی میں بہت زیادہ بہتری لانا ہوگی۔‘‘
جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بھاری شکست کے بعد آسٹریلیا کو رواں ہفتے کے اختتام پر ٹیم میں تبدیلیوں کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ وہ شکست کے اثرات سے نکلنے کے ساتھ ساتھ اگلے ہفتے سیریز کے فیصلہ کن ٹیسٹ کے لیے اپنی ٹیم کی تشکیل پر غور کر رہا ہے۔
گکیبرہا میں ایک اننگز اور 31 رنز سے شکست کے بعد آسٹریلوی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کی جگہ خطرے میں پڑ گئی ہے، جبکہ منگل کے روز کیپ ٹاؤن میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل سلیکٹرز کو بھی ٹیم کے انتخاب پر غور و فکر کے لیے کئی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا۔
آسٹریلیا شکست کے بعد عجلت میں ٹیم میں تبدیلیاں کرنے کے لیے مشہور نہیں ہے۔ سینٹ جارجز پارک میں شکست کے بعد کپتان پیٹ کمنز نے بھی اس معاملے پر محتاط انداز اختیار کیا۔
ممکنہ طور پر کھلاڑیوں میں تبدیلی کے حوالے سے پیٹ کمنز نے کہا، ’’یہ ہمیشہ ایک نازک توازن کا معاملہ ہوتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی کھلاڑی بس اپنی فارم بحال کرنے کے قریب ہے اور اس کے بعد مسلسل اچھی کارکردگی دکھائے گا؟ یا اب تبدیلی کا موزوں وقت محسوس ہوتا ہے؟ اگلے چند روز کے دوران اسی معاملے پر بات چیت ہوگی۔‘‘
انہوں نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ممکنہ طور پر کیمرون گرین اور جوش انگلس اگلے ہفتے کھیلنے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ ٹیم کے 11 کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے وقت یقیناً ان کے ناموں پر بھی غور کیا جائے گا۔‘‘
ٹیم میں تبدیلیوں پر بحث میں مارنس لبوشین کا نام بھی شامل ہونے کا امکان ہے، جنہوں نے رواں ماہ جنوبی افریقا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں دو مرتبہ 37، جبکہ 14 اور 39 رنز بنائے ہیں۔ وہ جولائی 2023 میں اولڈ ٹریفورڈ کے مقام پر انگلینڈ کے خلاف 111 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد سے کوئی ٹیسٹ سنچری نہیں بنا سکے۔
کمنز نے مزید کہا، ’’اننگز کا آغاز کرنے یا تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے کا سب سے مشکل مرحلہ وکٹ پر جمنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ مشکل مرحلہ عبور کر رہے ہیں اور 30 رنز تک پہنچ رہے ہیں۔ انہیں ان اسکورز کو بڑی اننگز میں بدلنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ صرف 30 رنز کی اننگز سے آپ زیادہ میچ نہیں جیت سکتے۔‘‘
آسٹریلوی کپتان نے کہا، ’’یہ یقیناً تکنیک کی خامی نہیں ہے۔ شاید کچھ ایسے مواقع پر فیصلے کرنے کا معاملہ ہے جب کھیل مختلف انداز اپنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم اس پر کام کریں گے۔ وہ گیند کو اچھی طرح ہٹ کر رہے ہیں۔‘‘
بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا امکان
بیٹنگ آرڈر میں ردوبدل کا امکان ہے، جس کے تحت میٹ رینشا کی نک میڈنسن کی جگہ اننگز کا آغاز کرنے کے لیے واپسی متوقع ہے۔ اس طرح پیٹ کے پٹھے میں کھنچاؤ سے صحت یاب ہونے والے کیمرون گرین کی ٹیم میں واپسی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ جوش انگلس اور کوپر کونولی بھی انتخاب کے لیے ممکنہ امیدوار ہیں۔
کمنز نے کہا، ’’ڈریسنگ روم میں اپنے بلے بازوں کی صلاحیت اور ان کے اپنے لیے مقرر کردہ معیار کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ ہماری کارکردگی اس سطح سے کچھ نیچے ہے جس تک ہم پہنچنا چاہتے ہیں۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے لیے خود کو تیار کرنے کی خاطر ہمارے پاس تین سے چار دن ہیں۔ اس حوالے سے بہت سی بات چیت ہوگی۔‘‘
میچ کے حالات کو دیکھتے ہوئے تجربہ کار اسپنر نیتھن لائن کی بھی ٹیم میں واپسی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں آسٹریلیا کو اسکاٹ بولینڈ کو ٹیم میں برقرار رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا، جنہوں نے دوسرے ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں اور جمعرات کے روز دوسری اننگز میں مزاحمت کرتے ہوئے بلے سے بھی غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔
کمنز نے مزید کہا، ’’اگر ہم مقابلے میں برقرار رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی کارکردگی میں واضح طور پر بہت زیادہ بہتری لانا ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں بعض اوقات شکست آپ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جھنجھوڑ دیتی ہے۔ جیت کی صورت میں بعض خامیوں پر پردہ پڑ سکتا ہے، لیکن شکست کھلاڑی کو اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔‘‘


Comments