نیپال کو تباہ کن سیلاب کے بعد 2 کروڑ ڈالر موسمیاتی امداد ملے گی
- 26 اگست کو آنے والے سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 1,500 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 5,000 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپال کو اگست میں چین کے تبت کے سرحدی علاقے میں تباہ کن سیلاب کے بعد اقوام متحدہ کے موسمیاتی نقصانات کے ازالے کے فنڈ سے 2 کروڑ ڈالر امداد ملے گی۔ نیپالی حکومت نے اس کی تصدیق کی۔
26 اگست کو آنے والے سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 1,500 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 5,000 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے 15 ہزار خاندانوں کے تقریباً 60 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ اس آفت کے باعث سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور 13 پن بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 2.7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ابتدائی سرکاری تخمینوں کے مطابق تعمیرِ نو کے اخراجات 4.7 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتے ہیں۔
وزارتِ زراعت، جنگلات و ماحولیات کے مطابق، نقصانات اور تباہی سے نمٹنے کے فنڈ (ایف آر ایل ڈی) سے ملنے والی امداد کا مقصد موسمیاتی آفات سے ہونے والے شدید نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔ تاہم یہ امداد سیلاب کے مجموعی اخراجات کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
نیپال نے سیلاب کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد اگست میں اقوام متحدہ کے متعلقہ فنڈ سے امداد کی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم بالیندرا شاہ نے ستمبر میں اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے سیلاب کو دنیا کے لیے انتباہ قرار دیا اور اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو بتایا۔


Comments