BR100 Decreased By (-1.41%)
BR30 Decreased By (-1.5%)
KSE100 Decreased By (-1.01%)
KSE30 Decreased By (-1.38%)
BAFL 55.30 Decreased By ▼ -0.28 (-0.5%)
BIPL 24.33 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 28.06 Decreased By ▼ -0.17 (-0.6%)
CNERGY 12.29 Decreased By ▼ -0.23 (-1.84%)
DFML 16.25 Increased By ▲ 0.28 (1.75%)
DGKC 177.80 Decreased By ▼ -4.37 (-2.4%)
FABL 90.47 Decreased By ▼ -0.65 (-0.71%)
FCCL 49.90 Decreased By ▼ -1.40 (-2.73%)
FFL 13.75 Decreased By ▼ -0.19 (-1.36%)
GGL 18.93 Decreased By ▼ -0.33 (-1.71%)
HBL 286.02 Decreased By ▼ -6.25 (-2.14%)
HUBC 190.50 Decreased By ▼ -4.39 (-2.25%)
HUMNL 8.37 Decreased By ▼ -0.29 (-3.35%)
KEL 5.61 Decreased By ▼ -0.12 (-2.09%)
LOTCHEM 24.17 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.70 Decreased By ▼ -2.15 (-2.39%)
OGDC 299.39 Decreased By ▼ -3.66 (-1.21%)
PAEL 32.83 Decreased By ▼ -0.24 (-0.73%)
PIBTL 12.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1.91%)
PIOC 228.00 Decreased By ▼ -4.31 (-1.86%)
PPL 214.45 Decreased By ▼ -2.22 (-1.02%)
PRL 94.15 Decreased By ▼ -5.73 (-5.74%)
SNGP 90.75 Decreased By ▼ -1.08 (-1.18%)
SSGC 22.64 Decreased By ▼ -0.57 (-2.46%)
TELE 6.84 Decreased By ▼ -0.14 (-2.01%)
TPLP 11.14 Decreased By ▼ -0.27 (-2.37%)
TRG 55.95 Decreased By ▼ -0.88 (-1.55%)
UNITY 7.67 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
WTL 0.92 Decreased By ▼ -0.01 (-1.08%)
اداریہ

بجلی چوری، ایماندار صارفین پر بوجھ

  • بجلی چوری محض بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے خلاف جرم نہیں بلکہ ہر ایماندار صارف کے ساتھ ناانصافی ہے
شائع اپ ڈیٹ

لاہور اور قصور میں بجلی چوری کے مبینہ واقعات اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے اہلکاروں پر حملوں کے حالیہ واقعات ایک ناخوشگوار حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں: قانون کی پابندی کرتے ہوئے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو دوسروں کی بددیانتی کی قیمت چکانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

لاہور میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے پستول برآمد کیا۔ یہ کارروائی لیسکو کے دفتر میں ایک جھگڑے کے بعد عمل میں آئی، جو اس وقت پیش آیا جب معائنہ کرنے والی ٹیم نے ایک نادہندہ صارف کے احاطے میں غیر قانونی براہِ راست کنکشن کے ذریعے بجلی چوری کا پتا لگایا۔

قصور میں کمپنی کے ترجمان کے مطابق، میٹر نمبر اور اس کے درج شدہ ریڈنگ کے درمیان فرق کی جانچ کرنے والی لیسکو ٹیم پر مبینہ طور پر صارف اور پانچ مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر حملہ کیا، انہیں یرغمال بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

ایسے وقت میں جب بجلی کے بھاری بلوں، بڑھتے ہوئے نرخوں اور مختلف سرچارجز نے گھریلو بجٹ کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے، بجلی چوری محض بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے خلاف جرم نہیں بلکہ ہر ایماندار صارف کے ساتھ ناانصافی ہے۔

جعلی میٹروں، غیر قانونی براہِ راست کنکشنز اور دیگر دھوکہ دہی کے طریقوں سے بجلی چوری تقسیم کار کمپنیوں کو ان کی جائز آمدنی سے محروم کرتی ہے۔ یہ نقصانات، آپریشنل ناکارکردگیوں اور نظام کی دیگر خامیوں کے ساتھ مل کر، بل ادا کرنے والے صارفین پر مالی بوجھ بڑھاتے ہیں۔ باقاعدگی سے اپنے بل ادا کرنے والے صارفین یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب دوسرے لوگ ان کے خرچ پر غیر قانونی طور پر بجلی استعمال کرتے ہیں تو انہیں بجلی کے لیے اتنی زیادہ قیمت کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مبینہ طور پر اسلحہ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیسکو کی معائنہ کرنے والی اور واجبات وصول کرنے والی ٹیموں کو مناسب سیکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے، جس میں ضرورت پڑنے پر پولیس کی حفاظتی نفری بھی شامل ہو، تاکہ وہ بلاخوف اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی کو چھپانے کے لیے سرکاری ملازمین پر حملہ کرے، انہیں یرغمال بنائے یا ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیاں دے۔ ایسے طرزِ عمل پر سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے، خواہ ملوث شخص کا سماجی مرتبہ، اثر و رسوخ یا تعلقات کچھ بھی ہوں۔

حکام کو سختی کے ساتھ ساتھ منصفانہ انداز میں بھی ردعمل دینا چاہیے۔ پولیس کو ان واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں، بجلی کے معائنے اور واجبات کی وصولی کرنے والی ٹیموں کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے اور جن افراد کا جرم ثابت ہو، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

لیسکو اور بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کو نگرانی کا نظام مضبوط بنانا، میٹرنگ کے نظام کو بہتر کرنا، شفاف معائنے کرنا اور بجلی چوری کے مقدمات میں بلاامتیاز کارروائی کرنی چاہیے۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ الزامات قابلِ اعتماد شواہد پر مبنی ہوں اور ہر ملزم کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے۔

تاہم صرف قانون نافذ کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ادارہ جاتی ناکارکردگیوں کا ازالہ کرنا، نظم و نسق بہتر بنانا، بدعنوانی پر قابو پانا اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بجلی چوری اور دیگر قابلِ تدارک نقصانات کے مالی نتائج بلاامتیاز ایماندار صارفین پر منتقل نہ کیے جائیں۔ بجلی چوری کے سامنے آنے والے واقعات، وصولیوں اور بااثر نادہندگان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی رپورٹنگ میں زیادہ شفافیت سے عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی اور یہ ثابت ہوگا کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے۔

چونکہ بجلی چوری ایسا جرم نہیں جس کا کوئی متاثرہ فریق نہ ہو، اس لیے چوری کرنے والوں کو جواب دہ ٹھہرانا ضروری ہے تاکہ ایماندار صارفین کو مزید ان کی بددیانتی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف