حکومت کا ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم جاری رکھنے کا اعلان
- اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام اور مقامی صنعت کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں، بلال اظہرکیانی
وزیرمملکت خزانہ بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا، اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام اور مقامی صنعت کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی میں نکتۂ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیم کا تفصیلی جائزہ لیا جس کے تحت برآمد کنندگان کو برآمدی مصنوعات کی تیاری کیلئے درکار خام مال اور دیگر ضروری اشیا ڈیوٹی ادا کیے بغیر درآمد کرنے کی اجازت ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں بعض معاملات میں اس اسکیم کا غلط استعمال کیا گیا جس کے پیشِ نظر حکومت نے اصلاحی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسکیم کا غلط استعمال اس کے خاتمے یا اس کے تحت رعایتی سہولت حاصل کرنے والی اشیا کی فہرست مزید محدود کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، کیونکہ یہ اسکیم برآمدات کے فروغ کے لیے اہم ہے۔
وزیرمملکت نے بتایا کہ حکومت ٹیکسٹائل کی صنعت کے تمام متعلقہ شعبوں سے مشاورت کر رہی ہے جن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، مقامی لوم آپریٹرز، گارمنٹس تیار کرنے والے ادارے اور دیگر برآمد کنندگان شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات متعارف کرانے پر کام کررہی ہے جن سے اسکیم کے غلط استعمال کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق یہ کوششیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔
بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ پاکستان کی برآمدات کے لیے اہمیت کے پیشِ نظر حکومت ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کو برقرار رکھے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کے تحفظ اور ایسے غلط استعمال کی روک تھام سے متعلق خدشات کو بھی دور کیا جائے گا جو ملکی پیداوار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ برآمد کنندگان کو معیاری خام مال اور دیگر ضروری اشیا مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں۔ اس سے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی رکھنے اور برآمدات میں اضافے میں مدد ملے گی۔
بلال اظہر کیانی نے مزید کہا کہ حکومت برآمدات کے فروغ، مقامی صنعت کے تحفظ اور اسکیم کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ شعبوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔


Comments