غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ چند شعبوں تک محدود
- ستمبر 2026 میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 219.5 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 18.5 فیصد زیادہ ہے
پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کچھ معمولی اور محدود شعبوں تک مرکوز بہتری دیکھی گئی ہے۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد اضافے کے ساتھ 719.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اگرچہ یہ بہتری حوصلہ افزا ہے، تاہم سرمایہ کاری کی مجموعی آمد اب بھی کم ہے۔
ستمبر 2026 میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 219.5 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 18.5 فیصد زیادہ ہے، لیکن اگست میں ہونے والی 315.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں تقریباً 31 فیصد کم ہے۔ ماہانہ بنیاد پر یہ کمی سرمایہ کاری کی آمد میں غیر مستقل صورتِ حال کو نمایاں کرتی ہے، جہاں چند بڑے لین دین مجموعی اعداد و شمار کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔
سہ ماہی بنیاد پر بہتری کی وجہ مجموعی سرمایہ کاری کی آمد میں اضافہ تھا، جو 20 فیصد بڑھ کر 968 ملین ڈالر ہوگئی۔ تاہم، سرمایہ کاری کا اخراج بھی 20 فیصد اضافے کے ساتھ 248 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔

ملک وار اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں کینیڈا براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا، جس نے 229 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے بعد چین کا نمبر رہا، جس کی سرمایہ کاری 197.5 ملین ڈالر تھی۔ تاہم، شرح نمو کے لحاظ سے چین سے سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر تقریباً 63 فیصد بڑھ گئی، جبکہ کینیڈا سے سرمایہ کاری تقریباً غیر تبدیل شدہ رہی۔ دونوں ممالک نے مل کر مجموعی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 60 فیصد حصہ ڈالا، جو پاکستان کے چند محدود سرمایہ کار ممالک پر مسلسل انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔
برطانیہ سے سرمایہ کاری میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی، جہاں سرمایہ کاری کی آمد 61.3 ملین ڈالر سے بڑھ کر 83.4 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کاری 36 فیصد اضافے کے ساتھ 54.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس، سوئٹزرلینڈ اور ہانگ کانگ سے سرمایہ کاری کی آمد میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ستمبر کے اعداد و شمار بھی اسی نوعیت کے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس ماہ کینیڈا 85.3 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ برطانیہ 48.7 ملین ڈالر اور چین 43.8 ملین ڈالر کے ساتھ اس کے بعد رہے۔
سرمایہ کاری کی آمد میں شعبہ وار تقسیم مسلسل ماہانہ بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کی سرگرمیاں وسیع البنیاد ہونے کے بجائے مخصوص لین دین پر منحصر ہیں۔

شعبہ وار اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی کاروباروں نے تقریباً 191 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو سالانہ بنیاد پر 39 فیصد زیادہ ہے، جبکہ بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری 32 فیصد اضافے کے ساتھ 139.4 ملین ڈالر ہوگئی۔ کان کنی اور کھدائی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی نمایاں آمد دیکھی گئی، بالخصوص ستمبر کے دوران۔
ملک اور شعبے کے لحاظ سے سرمایہ کاری کے رجحانات اس بات کے کچھ اشارے فراہم کرتے ہیں کہ سرمایہ کہاں جا رہا ہے۔ کینیڈا سے سرمایہ کاری کی نمایاں آمد کا تعلق کان کنی اور کھدائی کے شعبے سے ہو سکتا ہے، کیونکہ کینیڈین سرمایہ کار پاکستان کے معدنی وسائل اور جاری کان کنی کے منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں مالیاتی اداروں کی موجودگی اور سرمایہ کاری کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان ہے کہ برطانیہ سے آنے والی سرمایہ کاری مالیاتی خدمات کے شعبے میں گئی ہو۔ ستمبر کے دوران کان کنی اور مالیاتی کاروباروں کے شعبوں نے زیادہ تر سرمایہ کاری حاصل کی، جس سے ان مفروضوں کو کسی حد تک تقویت ملتی ہے۔

تاہم، ملک اور شعبے کے لحاظ سے سرمایہ کاری کی تفصیلات دستیاب نہ ہونے کے باعث ان روابط کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی چند شعبوں تک محدود ہے۔ مالیاتی خدمات، بجلی اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے، لیکن پاکستان کو برآمدات پر مبنی صنعتوں، ٹیکنالوجی اور دیگر پیداواری شعبوں میں مزید غیر ملکی سرمایہ درکار ہے۔ یہ سرمایہ کاری روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور برآمدی استعداد بڑھانے کے لیے اہم ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے اعلانات کی کمی نہیں، بالخصوص کان کنی، توانائی، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں۔ تاہم، سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور حقیقت میں آنے والے سرمائے کے درمیان اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ مفاہمت کی یادداشتیں اور سرمایہ کاری کے وعدے مثبت اشارے ضرور ہیں، لیکن جب تک منصوبے عملی شکل اختیار نہیں کرتے اور سرمایہ آنا شروع نہیں ہوتا، ان کی اہمیت محدود رہتی ہے۔
کم سطح سے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ کسی بڑی بحالی کی علامت نہیں ہے۔ توانائی کی بلند لاگت، ٹیکسوں کا بوجھ، ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتِ حال اور ملکی طلب کی کمزوری بدستور سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں۔ مسلسل اور یکساں پالیسیوں، کاروبار کرنے میں آسانی اور منافع بیرونِ ملک منتقل کرنے کے حوالے سے اعتماد کی بحالی، پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اہم ہوگی۔
پاکستان کے لیے چیلنج صرف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ ایسے متنوع شعبوں میں سرمایہ کاری حاصل کرنا بھی ہے جو برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کا سبب بن سکیں۔ پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار کچھ بہتری ضرور ظاہر کرتے ہیں، لیکن غیر ملکی سرمایہ کاری کی بامعنی بحالی ابھی بہت دور ہے۔


Comments